1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آسٹریلیا کا وسیع تر علاقہ سیلاب سے متاثر

آسٹریلیا میں سیلاب سے متاثر ہونے والا علاقہ فرانس اور جرمنی کے مجموعی رقبے سے بھی بڑا ہے۔ ملک کے شمال مشرقی علاقے میں 22 قصبے اور شہر اس سیلاب کی نذر ہوگئے ہیں، جس سے دو لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے۔

default

حالیہ سیلاب سے اب آسٹریلوی چینی برآمد کرنے والی ایک اہم بندرگاہ بھی بند کرنا پڑی ہے۔ قبل ازیں سیلابی پانی کی بدولت ریاست کوئینز لینڈ کی نہ صرف کوئلے کی بڑی کانیں بند کرنا پڑی تھیں بلکہ اس ریاست کی کوئلہ برآمد کرنے والی سب سے بڑی پورٹ بھی بند کر دی گئی تھی۔

آسٹریلوی تاریخ میں گزشتہ 50 برس کے دوران آنے والے اس شدید ترین سیلاب کی وجہ ملک کے شمال مشرقی حصوں میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری طوفانی بارشیں بنیں۔

Flash-Galerie Überschwemmungen Australien

حالیہ سیلاب سے ریاست کوئنز لینڈ کے 22 شہر اور قصبے پانی سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

ریاست کوئینز لینڈ کی خاتون وزیر اعلیٰ اینا بلائی (Anna Bligh) نے آج جمعہ کے روز صحافیوں کو بتایا، ’’اب تک اس قدرتی آفت کی وجہ سے 22 شہر اور قصبے یا تو مکمل طور پر سیلاب کی زد میں آ گئے ہیں یا پھر باقی علاقوں سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔ جرمنی اور فرانس کے مجموعی رقبے کے برابر اس علاقے میں قریب دولاکھ افراد متاثر ہوئے۔‘‘

آسٹریلوی وزیر اعظم جولیا گیلارڈ نے چینی کی برآمد کے حوالے سے معروف شہر بنڈابرگ (Bundaberg) کا دورہ کیا ہے۔ اپنے دورے کے دوران گیلارڈ نے ریاست کوئینز لینڈ میں آنے والی اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے قائم ایک سیلابی فنڈ میں حکومت کی طرف سے ایک ملین آسٹریلوی ڈالر عطیہ کرتے ہوئے عام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ بھی اس میں حصہ لیں۔ اس فنڈ میں اب تک چھ ملین آسٹریلوی ڈالر جمع ہو چکے ہیں۔

Hochwasser Australien

پانی میں ڈوبا آسٹریلوی شہر تھیوڈور

ملکی محکمہ موسمیات کے مطابق موجودہ موسم بہار میں آسٹریلوی تاریخ کی شدید ترین بارشیں ہوئی ہیں، جن کے باعث ریاست کوئینز لینڈ میں موجود چھ بڑے دریاؤں میں سیلاب آیا۔ مزید یہ کہ نیوساؤتھ ویلز کے علاقے میں بھی بہت سے دریاؤں میں سیلاب کی وجہ سے ملک میں گندم کی فصل بھی کافی حد تک متاثر ہوئی ہے۔

ایمرجنسی حالات سے نمٹنے والے محکموں کے حکام کے مطابق ریاست کوئینز لینڈ کے بعض علاقوں میں سیلابی پانی کی سطح اتوار کے روز تک بڑھنے کی توقع ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں پانی اترنےمیں کم سے کم بھی ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔ حکام نے سیلابی پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔ مزید یہ کہ سیلاب میں گھرے ہوئے گھروں کے رہائشیوں کو سیلابی پانی کے ساتھ سانپوں اور مگرمچھوں کی آمد کے خطرات سے بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس