1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

آسٹریلیا پہنچنے والے مہاجرین، امریکا میں بسائے جائیں گے

بحرالکاہل میں متعدد مہاجر بستیوں میں مقیم مہاجرین کو امریکا میں بسایا جائے گا۔ آسٹریلیا میں داخلے سے روکنے کے لیے مختلف جزائر پر یہ مہاجر بستیاں قائم ہیں، جن پر تنقید کی جاتی ہے۔

آسٹریلوی وزیراعظم میلکم ٹرن بل کے مطابق ان مہاجر کیمپوں کی بندش کے لیے وہاں موجود مہاجرین کو امریکا میں بسانے کے اہتمام کیا جائے گا۔

کینبرا حکومت آسٹریلیا پہنچنے کی کوشش کرنے والے افراد کو پاپوآ نیوگنی کے مانُس اور ناؤروُ جزائر پر بنائے گئے حراستی مراکز میں منتقل کر دیتی ہے، تاہم یہاں مہاجرین کی حالت زار کے تناظر میں آسٹریلیا کو بین الاقوامی امدادی اداروں اور غیرسرکاری تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ امدادی اداروں کے مطابق یہ طے ہو جانے کے بعد بھی کہ کوئی شخص واقعی پناہ کا متلاشی ہے، اس کی آسٹریلیا منتقلی ممکن نہیں ہوتی۔

آسٹریلوی وزیراعظم ٹرن بل نے اتوار کو کینبرا میں صحافیوں سے بات چیت میں کہا، ’’امریکا کے ساتھ طے پانے والے انتطامات مہاجرین کو یہ موقع فراہم کریں گے کہ ناؤروُ اور مانُس پر موجود یہ مہاجرین امریکا میں بسیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے تحت یہ صرف ایک بار کا موقع ہے اور اس میں خواتین، بچوں اور خان دانوں کو اولین ترجیح دی جائے گی۔

افغانستان، سری لنکا اور مشرقی وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کشتیوں کے ذریعے آسٹریلیا پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم اب تک آسٹریلوی حکومتیں ان افراد کی کشتیوں کو سمندر ہی میں روک کر خفیہ آپریشنز کے ذریعے انہیں بحرالکاہل میں واقع جزائر پر بنائے گئے ان حراستی مراکز میں منتقل کرتی رہی ہیں۔

Australien Flüchtlinge Insel Nauru 2001 (picture-alliance/AP Photo/R. Rycroft)

ان مہاجر کیمپوں کی حالت مخدوش ہے

آسٹریلیا میں موجود قدامت پسند حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے آسٹریلیا کا رخ کرنے والے مہاجرین کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے، تاہم حراستی مراکز کی خراب حالت اور وہاں موجود مہاجرین کی حالت زار پر مہاجرین دوست تنظیمیں سخت تنقید کرتی ہیں۔

امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بعض مہاجرین اپنی لامتناہی قید پر ذہنی امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں طویل المدتی حل کی ضرورت ہے۔ اس عالمی تنظیم کے مطابق اگر آسٹریلیا ان مہاجرین کی امریکا منتقلی کے آپریشنز کا آغاز کر رہا ہے، تو اس سلسلے میں مانُس اور ناؤرو میں موجود تمام مہاجرین کو منتقل کیا جائے۔

امدادی اداروں کا تاہم اس نئے آسٹریلوی منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہنا ہے کہ اس سلسلے میں نہ تو کوئی وقت بتایا گیا ہے اور نہ ہی مہاجرین کی تعداد، جس کی وجہ سے اس منصوبے کے حوالے سے کئی طرح کے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔