1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آسٹریلیا: پچاس فیصد خواتین پولیس اہلکار جنسی طور پر ہراساں

آسٹریلوی پولیس میں ملازمت کرنے والی تقریباﹰ نصف خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں کام کے دوران جنسی طور پر ہراساں کیا جا چکا ہے۔

آسٹریلوی فیڈرل پولیس میں کام کرنے کے ماحول سے متعلق جاری کی گئی ایک رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ پولیس کے محکمے میں کام کرنے والے ساٹھ فیصد ملازمیں، جن میں خواتین اور مرد بھی شامل ہیں، کو ڈرایا دھمکایا بھی جاتا ہے۔

اس رپورٹ کی مصنف الیزبیتھ بروڈیریک کا کہنا ہے،’’جہاں جنسی طو پر ہراساں کیے جانے اور ملازمین کو دباؤ کے مسائل ہوں وہاں فوری طور پر اس کے سدباب کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ اس سروے کے مطابق آسٹریلیا کی پولیس میں چھیالیس فیصد خواتین اور بیس فیصد مردوں نے کہا ہے کہ انہیں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔ اسی سروے کے مطابق چھیاسٹھ فیصد خواتین اور باسٹھ فیصد مرد اہلکاروں نے بتایا ہے کہ ان پر کام کے دوران غیر ضروری دباؤ ڈالا جاتا رہا ہے۔

اس رپورٹ میں متاثرین کی جانب سے شکایت کرنے کے عمل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ چند پولیس افسران کا کہنا ہے کہ وہ اس لیے شکایات درج نہیں کرواتے کیوں کہ انہیں خطرہ ہے کہ شکایت درج کروانے کی صورت میں ان کا کیریئر اور مستقبل متاثر ہو سکتا ہے جبکہ کچھ کی رائے میں شکایت درج کروانے کے بعد معاملہ بہت طول اختیار کر جاتا ہے اور کئی مرتبہ ان کا نام صیغہ راز میں بھی نہیں رہتا۔

آسٹریلوی پولیس میں کام کرنے والی خواتین نے یہ بھی بتایا ہے کہ ان کے لیے ایک مردوں کی اجارہ داری والے محکمے میں کام کرنا آسان نہیں ہے اور انہیں مسلسل طور پر اپنی قابلیت کو ثابت بھی کرنا پڑتا ہے۔

ایک خاتون پولیس افسر نے بتایا،’’خواتین کے لیے موافق ماحول فراہم کرنے کے حوالے سے پیش رفت تو ہوئی ہے لیکن اب بھی کام کی جگہوں پر جنسی اور ذہنی طور پر حراساں کیا جانا عام ہے۔‘‘

آسٹریلیوی فیڈرل پولیس کے کمیشنر نے اس رپورٹ کو جاری کیے جانے کے موقع پر ملازمین سے معافی مانگی اور کہا کہ حالات تبدیل کیے جانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا،’’کسی بھی قسم کے غلط رویے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘

واضح رہے کہ ماضی میں آسٹریلیا کی فوج میں جنسی تشدد کے واقعات سے متعلق اسکیڈلز منظر عام پر آچکے ہیں۔

DW.COM