1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

 آسٹریلیا میں یونیورسٹی طالبات کی نصف تعداد جنسی ہراس کا شکار

آسٹریلیا میں انسانی حقوق کمیشن کے جائزے کے مطابق گزشتہ برس  آسٹریلیا میں طالبات کی نصف تعداد کو جنسی طور پر  کم سے کم ایک بار ہراساں کیا گیا۔ ان میں سے سات فیصد کو جنسی حملوں کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔

آسٹریلیا کے ہیومن رائٹس کمیشن کی جاری کردہ رپورٹ میں  بتایا گیا ہے کہ اس تنظیم کے ایک حالیہ سروے کے نتائج کے مطابق جنسی ہراس کے زیادہ تر واقعات یونیورسٹیوں میں پیش آئے۔ آسٹریلین ہیومن رائٹس کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ سروے

39 یونیورسٹیوں کی  تیس ہزار طالبات پر مشتمل تھا۔ اس جائزے سے یہ معلوم ہوا کہ خواتین  پر مردوں کی نسبت دو گنا زیادہ جنسی حملے کیے گئے۔ اس رپورٹ کے مطابق،’’ مجموعی طور پر مردوں نے عورتوں کو جنسی حملوں اور جنسی ہراس کا نشان بنایا اور زیادہ تر متاثرہ طالبات اُن پر جنسی حملے کرنے والوں کو جانتی تھیں۔‘‘

Junge Menschen Smartphone Symbolbild (Fotolia/bonninturina)

خواتین  پر مردوں کی نسبت دو گنا زیادہ جنسی حملے کیے گئے

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دس میں سے نو طالبات نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی شکایت یونیورسٹی سے نہیں کی۔ اس رپورٹ کو میڈیا کے سامنے پیش کرنے والی کیٹ جینکنز کا کہنا ہے،’’ جنسی حملے یا جنسی ہراس کسی بھی انسان کو ذہنی اور جسمانی طور پر بری طرح متاثر کرتے ہیں۔‘‘ جینکنز کی رائے میں یونیورسٹیوں کو محفوظ بنانے کے لیے انتظامیہ کو اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

آسٹریلیا میں یونیورسٹیوں کی چیئر پرسن مارگریٹ گارڈنر نے طالبات سے معافی مانگتے ہوئے کہا،’’ ہمیں افسوس ہے کہ آپ کے ساتھ ایسا ہوا۔ جنسی حملہ ایک جرم ہے۔ جس نے یہ جرم کیا ہے اسے ایسا کرنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ اس میں آپ کی کوئی غلطی نہیں ہے۔‘‘

DW.COM