1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آسٹریلیا میں مشتبہ دہشت پسندگروہ کے اراکین گرفتار

آسٹریلوی پولیس نے آج منگل کے روز علی الصبح مشتبہ دہشت گردوں کے ایک ایسے گروپ کا پتہ چلا کر اس کے متعدد ارکان کو گرفتار کرلیا،جو ممکنہ طور پر آسٹریلوی فوج کے ایک اڈے پر خود کش حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

default

آسٹریلوی پولیس اپنے ایک بم ڈسپوزل روبوٹ کے ساتھ

سڈنی میں آسٹریلیا کی وفاقی پولیس کے چیف کمیشنر ٹونی نیگس نے صحافیوں کو بتایا کہ ان افراد کی گرفتاری کے لئے پولیس کے 400 سے زائد اہلکاروں نے ملبورن میں، آج منگل کے روز سورج نکلنے سے قبل، 19 مختلف گھروں پر چھاپے مارے۔

یہ کارروائی گزشتہ تین برسوں کے دوران ملکی پولیس کا انسداد دہشت گردی کا سب سے بڑا آپریشن تھا۔ گرفتار شدگان کا تعلق آسٹریلیا میں مقیم صومالی مہاجرین کی اس برادری سے ہے جس کے ارکان کی تعداد سولہ ہزار سے زائد بنتی ہے۔

Polizei vereitelt Terroranschlag in Australien

ملبورن میں اعلیٰ پولیس اہلکار مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے

آسٹریلوی پولیس کے چیف کمیشنر کے بقول جن چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، وہ ہیں تو آسٹریلوی شہری مگر نسلی طور پر ان کا تعلق صومالیہ یا لبنان سے ہے۔

بتایا گیا ہے کہ پولیس ان ملزمان کی سرگرمیوں پر اس سال جنوری سے نظر رکھے ہوئے تھی، اور یہ مشتبہ دہشت گرد کئی مرتبہ سڈنی میں آسٹریلوی فوج کے ہولسوردی بیرکس نامی اڈے اور دیگر فوجی تنصیبات کے بارے میں معلومات جمع کرتے پائے گئے تھے۔

Polizei vereitelt Terroranschlag in Australien

ایک چھاپے کے دوران لی گئی پولیس اہلکاروں کی ایک تصویر

سرکاری ذرائع کے مطابق یہ ملزم ممکنہ طور پر سڈنی میں ایک فوجی اڈے پر خود کش حملہ کرنا چاہتے تھے اور پولیس کو شبہ ہے کہ یہ چاروں ملزمان صومالیہ میں مسلمان عسکریت پسندوں کے الشباب نامی گروپ کے ساتھ رابطے میں تھے۔

ایک آسٹریلوی اخبار کے مطابق پولیس کے وسیع تر چھاپوں سے قبل ان مشتبہ افراد کی الیکڑانک ذرائع سے کی جانے والی نگرانی سے یہ واضح ہو گیا تھا کہ وہ خود کار ہتھیاروں سے سڈنی میں ہولسوردی بیرکس پر حملہ کرکے، اپنی موت سے پہلے زیادہ سے زیادہ فوجیوں کو ہلاک کرنا چاہتے تھے۔

آسٹریلوی وزیر اعظم Kevin Rudd کے بقول ملک میں اس مبینہ حملے کی منصوبہ بندی کا علم ہونے کے بعد دہشت گردی کے خلاف وارننگ کا لیول بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے۔