1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آسٹریلیا میں غیر ملکی طالب علموں کا ’نیا ٹیسٹ‘

آسٹریلوی حکومت غیر ملکی طالب علموں کے لیے انگریزی زبان کے معیارات کو سخت بنا رہی ہے۔ اس کا مقصد ملک میں تعلیم کے شعبے میں مزید بہتری پیدا کرنا بتایا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ آسٹریلیا میں پڑھنے کی خاطر آنے والے غیر ملکی اسٹوڈنٹس کے لیے انگریزی زبان کے لیے رائج ضوابط کو سخت کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر سے آسٹریلیا میں تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طالب علموں کی  سالانہ تعداد ہزاروں میں ہوتی ہے جبکہ تعلیمی اداروں کے لیے یہ ایک انتہائی مالدار بزنس تصور کیا جاتا ہے۔

آسٹریلیا، نئے مجوزہ سخت قوانین میں شہریت کا حصول مشکل تر

 آسٹریلیا میں یونیورسٹی طالبات کی نصف تعداد جنسی ہراس کا شکار

’آسٹریلیا میں انتہا پسندی کے بیج کافی پہلے بوئے گئے‘

حکومتی اعدادوشمار کے مطابق آسٹریلیا میں فی الوقت پڑھنے کی غرض سے آنے والے غیر ملکی اسٹوڈنٹس کی تعداد ساڑھے پانچ لاکھ ہے۔ اے ایف پی کے مطابق آسٹریلیا میں موجود طالب علموں سے کہا گیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے اگر ان کی انگریزی زبان کی قابلیت زیادہ بہتر نہیں ہے تو وہ اس زبان پر مہارت حاصل کرنے کی خاطر اضافی کورسز کریں۔

آسٹریلوی وزیر تعلیم سیمون برمنگھم نے کہا ہے کہ اب غیر ملکی طالب علموں کو یونیورسٹی داخلہ لینے اور دیگر اعلیٰ ڈگریوں کے حصول کی خاطر انگریزی زبان کا ایک ٹیسٹ بھی پاس کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ایک معیار بنایا گیا ہے، جس کو ملحوظ خاطر رکھنا اب ضروری ہو گا۔

برمنگھم نے صحافیوں سے گفتگو میں اس نئے نظام کا دفاع کرتے ہوئے مزید کہا کہ آسٹریلیا میں انگریزی زبان کے متعدد کورسز کرائے جاتے ہیں، جن کا معیار بہت اچھا ہے لیکن کچھ ادارے ان معیارات کا خیال نہیں رکھتے، جو ناقابل قبول ہے۔

اگرچہ برمنگھم نے یہ نہیں بتایا کہ نئے نظام کے تحت انگریزی بہتر بنانے کا معیار کیا ہو گا لیکن انہوں نے کہا کہ اس کا فیصلہ تعلیمی نظام سے منسلک قومی سطح کا ریگولیٹر ادارہ کرے گا۔ آسٹریلوی وزیر تعلیم کے مطابق ان نئی تبدیلیوں سے غیر ملکی طالب علموں پر منفی اثر نہیں پڑے گا بلکہ ان کے لیے سیکھنے کے نئے مواقع دستیاب ہو سکیں گے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات