1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آسٹریلیا میں بھارتی طالب علم کے قتل کیس میں فرد جرم عائد

آسٹریلیا میں ایک نوجوان بھارتی طالب علم کو ہلاک کرنے کے معاملے میں ایک پندرہ سالہ آسٹریلوی کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

default

استغاثہ کے مطابق ایک آسٹریلوی نوجوان نے اس سال جنوری میں 21 سالہ بھارتی طالب علم نِتن گارگ کو چھرا گھونپ کر ہلاک کردیا تھا۔

جمعرات کے روز اس آسٹریلوی ٹین ایجر کو بچوں کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس کیس کی تفتیش کرنے والے آسٹریلوی انسپکٹر بیرنی ایڈورڈز نے صحافیوں کو بتایا کہ پولیس کے خیال میں اس قتل کا محرک نسل پرستی نہیں تھا۔ ایڈورڈز نے کہا:" اب تک کی تفتیش سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس قتل کے پیچھے نسل پرستانہ جذبات کارفرما نہیں تھے۔ اب تک یہ معلوم ہوچکا ہے کہ یہ قتل کیوں ہوا اور کیسے ہوا، لیکن میں اس کے پیچھے موجود محرک کے بارے میں کوئی خیال آرائی نہیں کروں گا۔"

Indien Außenminister SM Krishna

بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے نِتن گارگ کے قتل کو 'انسانیت کے خلاف سنگین جُرم' قرار دیا تھا۔

نتن گارگ نامی بھارتی نوجوان کی ہلاکت پر بھارت کی طرف سے شدید ردعمل بھی سامنے آیا تھا۔ اکاؤنٹنگ گریجویٹ گارگ کو آسٹریلوی شہر میلبورن میں اس وقت ہلاک کیا گیا، جب وہ رات کے وقت ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورینٹ سے ملازمت کے بعد واپس اپنے گھر کی اور جارہا تھا۔ نِتن گارگ کے قتل سے بھارتی نوجوانوں پر آسٹریلیا میں ہونے والے حملوں کا مسئلہ پیچیدہ ہوگیا تھا۔

بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے نِتن گارگ کے قتل کو 'انسانیت کے خلاف سنگین جُرم' قرار دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اس طرح کے واقعات سے تعلیم کے لئے محفوظ سمجھے جانے والے ملک آسٹریلیا کی ساکھ بھی متاثر ہو گی۔کرشنا نے اس حوالے سے مزید کہا:"ان واقعات سے آسٹریلیا اور بھارت کے باہمی تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔"

آسٹریلیا میں اس وقت 90 ہزار سے زائد بھارتی طالب علم تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ ان کی زیادہ تر تعداد شہر میلبورن میں ہے۔ ان میں اکثر طالب علم اپنے تعلیمی اخراجات پٹرول پمپس، فاسٹ فوڈ ریسٹورینٹس اور اشیائے خوردنوش کی دکانوں پر کام کرکے پورے کرتے ہیں۔ یہ طالب علم عام طور پر رات کی شفٹ میں کام کرتے ہیں اور آنے جانے کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں۔

رپورٹ: افسر اعوان/خبر رساں ادارے

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM