1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آسٹریلیا میں آگ کی تباہ کاریاں، مرنے والوں کی تعداد 180 سے زائد ہوگئی

جنوب مشرقی آسٹریلیا میں جنگلوں میں لگی آگ کے واقعات پر ابھی تک قابو نہیں پایا جاسکا ہے اور ہلاک شدگان کی تعداد180 سے زائد ہو گئی ہے اور مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

default

آگ پر اب تک قابو نہیں پایا جا سکا

شدید گرمی اور تیز ہواؤں کی وجہ سے آسٹریلیا میں گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران جنگلوں کی لگی موجودہ آگ سب سے تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔ آسٹریلیا کی دو وفاقی ریاستوں وکٹوریہ اور نیو ساؤتھ ویلز میں اسی مختلف مقامات پر لگی آگ بے قابو دکھائی دیتی ہے۔ وسیع تر جنگلاتی رقبے کی تباہی کا باعث بننی والی اس آگ پر قابو پانے کے لئے فائر بریگیڈ کے 30 ہزار کے قریب کارکن مسلسل مصروف ہیں اور ان کی مدد کے لئے ہزاروں فوجی بھیج دیئے گئے ہیں۔ آگ لگنے کی انکوائری کے لئے ایک ٹاسک فورس بھی قائم کردی گئی ہے۔

Brände in Australien halten an

روذ پر ایک جلے ہوئے سائن بورڈ کا منظر

آسٹریلیا کے جنگلات میں پھیلی سن 2009کی آگ اب آسٹریلوی تاریخ کی سب سے ہولناک آگ بن گئی ہے۔ اِس کی لپیٹ میں آ کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد سن 1939 اور سن1983 میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سے بڑھ گئی ہے۔ سن 1939 میں لگی آگ کے دوران آنے والے جمعہ کو سیاہ جمعہ کہا جاتا ہے۔ تب 71 افراد جل کر جاں بحق ہوئے تھے۔ اِسی طرح سن 1983 کی آگ کی لپیٹ میں آنے والے انسانوں کی تعداد 73 تھی۔

Feuerwehrmänner kämpfen gegen die Flammen bei King Lake Australien

آگ پر قابُو پانےمیں مصروف فائر فائٹرز

امسالہ جنوب مشرقی آسٹریلیا کے جنگلات کی جھاڑیوں میں لگنے والے آگ کی زد آ کر 750 سے زائد مکات خاکستر ہو گئے ہیں۔ آگ کی لپیٹ میں جنگلات کا علاقہ دو لاکھ ہیکٹر بیان کیا جا رہا ہے۔ جلنے والے سینکڑوں مکانوں کے علاوہ ہزار ہا مکانات بجلی کی سہولت سے محروم ہیں کیونکہ کئی مقام تک پہچنی والی بجلی کی ہائی وولٹیج والی تاریں اور کھمبے بھی آگ کے شعلوں کی گرفت میں آ چکے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق آگ کے شعلوں کی ایک بلند چلتی دیوار ہے جس کی لپیٹ میں مسلسل قصبے، مکانات، بلند و بالا درخت اور جھاڑیاں آ رہی ہیں۔

Trümmer nach starken Bränden in King Lake Australien

آسٹریلوی صوبے وکٹوریہ کا قصبہ کنگ لیک میں ایک جلے ہوئےمکان کا ملبہ

پہلے آگ پھیلنے کی وجہ تیز ہوائیں اور بڑھتا درجہ حرارت بتایا گیا تھا لیکن تازہ اطلاعات کے مطابق درجہ حرارت میں کمی واقع ہونا شروع ہو گئی ہے۔ لیکن آگ بجھانے والے عملے کے مطابق درجہ حرارت میں کمی سے اب پھیلی آگ پر فوراً قابُو پانا ممکن نہیں کیونکہ اِس کا حجم بہت زیادہ ہے۔

اِس سال کی آگ کے دوران ایک قصبے کنگ لیک کے پچپن افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ ویسے تو اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 131 ہو گئی ہے لیکن اِس میں اضافے کے قوی امکان کو بھی حکام رد نہیں کر رہے۔ اِس کے علاوہ ایسا احساس بھی ہے کہ جس انداز میں آگ پھیل رہی ہے کہیں اِس کی لپیٹ میں سڈنی اور میلبورن کےشہروں کے نواحی اضلاع نہ آ جائیں۔

Zerstörte Kirche nach Bränden in Australien

آسٹریلوی شہر میلبورن کے قریبی قصبے کنگ لیک کا جلا ہوا گرجا گھر

جنگلات کے اندر سے گزرتی سڑکوں پر کھڑی بے شمار موٹر گاڑیاں بھی آگ کے شعلوں کی نذر ہو چکی ہیں۔ آگ کے علاقوں میں واقع قصبات میں بے شمار جلے مکانات کی ابھی گنتی باقی ہے۔ اِس خوفناک آگ کی زد میں آ کر ہلاک ہونے والے مویشیوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ اِن کے علاوہ اِس بڑی آگ کی زد میں آ کر نایاب جنگلی جڑی بوٹیوں کے ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

Australien Feuer

آسٹریلیا کے وزیر اعظم کیون رَڈ

آسٹریلیا کے سب سے بڑے صوبے وکٹوریہ کے شہر میلبورن میں واقع ایلفرڈ ہسپتال میں جھلسے ہوئے افراد کو بروقت مناسب اور بہترین علاج معالجے کی فراہمی کی کوششیں ہنگامی بنیادوں پر جاری ہیں۔ ایلفرڈ ہسپتال کے حادثاتی اور صدماتی علاج کے ماہر John Coleridge کا خیال ہے کہ کئی لوگوں نے جاں بحق افراد کو ریفریجیٹر میں رکھنے کی بھی اطلاع دی ہے اور اُن کی شنخت کا عمل ابھی باقی ہے جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم کیون رڈ نے آگ پر قابُو پانے کے لئے فوج کو طلب کر لیا ہے۔ ہزاروں آگ بجھانے والے عملے کو مدد کی اِس لئے بھی ضرورت ہے کہ کئی سڑکوں کو جلتے ہوئے بڑے بڑے درختوں نے بند کر رکھا ہے۔ اسی کے باعث ایمبیولینسوں کو اندرون جنگلات میں جلے افراد تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ آسٹریلوی وزیر اعظم نے صوبے وکٹوریا میں آگ سے پیدا شدہ المیے کو قومی المیہ قرار دیا ہے۔ صوبے وکٹوریہ کے وزیر اعلیٰ نے اِس صورت حال کو زمین پر واقع جہنم سے تعبیر کیا ہے۔

آ سٹریلوی تاریخ میں سن اُنیس سو انہتر، سڑسٹھ اور سن انیس سو بائیس کی لگنے والی جنگلات کی آگ بھی ہلاکتوں کے باعث یاد رکھی جاتی ہیں۔