1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

آسٹریلیا مزید مہاجر قبول کرے، امدادی ادارہ

مہاجرین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے آکسفیم نے آسٹریلیا سے اپیل کی ہے کہ وہ مزید شامی مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دے۔ اس سے قبل آسٹریلیا نے ہزاروں شامی اور عراقی باشندوں کو ویزے جاری کیے تھے۔

آسٹریلیا نے عراق اور شام سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کے لیے 12 ہزار ویزوں کے اجراء کا اعلان کیا ہے تاہم آکسفیم کا کہنا ہے کہ آسٹریلوی حکومت کو اس سے کہیں زیادہ مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دینی چاہیے۔

آکسفیم آسٹریلیا کی انسانی بنیادوں پر امداد کی پالیسی کی مشیر نیکول بیسکے کے مطابق، ’’آکسفیم آسٹریلوی حکومت کی جانب سے شامی اور عراقی مہاجرین کے لیے بارہ ہزار ویزوں کے اجراء کا خیرمقدم کرتا ہے اور یہ آسٹریلیا کے سن 2015ء کے وعدے کی تکمیل ہے تاہم اسے مزید مہاجرین کو اپنے ہاں جگہ دینی چاہیے۔‘‘

اقوام متحدہ کے مطابق شام میں گزشتہ کئی برس سے جاری خانہ جنگی کی وجہ سے پانچ ملین سے زائد افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

ستمبر 2015ء میں سابق آسٹریلوی وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے ملک میں انسانی بنیادوں پر سالانہ تیرہ ہزار سات سو پچاس مہاجرین کو قبول کرنے کے ساتھ ساتھ مزید بارہ ہزار ویزوں کے اجراء کا اعلان کیا تھا۔

Australien Melbourne Demonstration Flüchtlingspolitik (picture alliance/AA/R. Sakar)

آسٹریلوی حکومت پر پاپووآ نیوگنی میں رکھے گئے مہاجرین کے معاملے پر بھی دباؤ ہے

آکسفیم کے مطابق اس پروگرام کی کامیابی اور شامی تنازعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے آسٹریلیا کو مزید شامی اور عراقی باشندوں کو اپنے ہاں جگہ دینی چاہیے۔

نیکول بیسکے نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین میں مہاجرین کے حوالے سے سخت ہوتی پالیسیوں کے تناظر میں آسٹریلیا کو اس سلسلے میں مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

آسٹریلیا کے سابق سفیر برائے شام باب بوکر نے برطانوی اخبار گارڈین سے بات چیت میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ کیبنبرا حکومت مزید شامی مہاجرین کی مدد کرے اور مقامی برادریوں سے بھی کہے کہ وہ ملک میں پہنچنے والے مہاجرین کی آبادکاری میں مدد کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آسٹریلوی حکومت کے اقدامات کی اساس انسانیت ہونی چاہیے، نہ کہ مذہبی وابستگیاں۔