1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آسٹریلیا: ’غیر قانونی تارکین وطن کے داخلے پر تا عمر پابندی‘

آسٹریلوی حکومت نے کشتیوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر  ملک میں داخل ہونے والے تمام مہاجرین پر ایک قانونی ترمیم کے ذریعے تا عمر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر کینبرا حکومت کو کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

Australien Malcolm Turnbulls Rede über geplantes Einwanderungsgesetz (picture-alliance/dpa/P. Miller)

آسٹریلوی وزیر اعظم ٹرن بُل نے کہا ہے کہ جو لوگ انسانی اسمگلروں کی مدد سے کشتیوں کے ذریعے آسٹریلیا آنا چاہتے ہیں ، ان کے لیے ہمارے دروازے بند ہیں

آسٹریلوی وزیر اعظم میلکم ٹرن بُل کی قدامت پسند حکومت نے کہا ہے کہ وہ رواں ہفتے ترک وطن سے متعلق ملکی قانون میں ترمیم کا ایک مسودہ پیش کرے گی، جس کے بعد وسط جولائی سن دو ہزار تیرہ سے ناورُو اور پاپوا نیوگنی کے جزائر پر بنائے گئے حراستی کیمپوں میں پہنچنے والے پناہ گزینوں کے آسٹریلیا میں داخلے پر پابندی عائد کر دی جائے گی، خواہ وہ قانونی طور پر آسٹریلیا کا ویزہ ہی کیوں نہ حاصل کر لیں۔

ایسے افراد غیر ملکی سیاحوں کے طور پر یا کاروباری دوروں پر بھی آسٹریلیا آنے کے اہل نہیں ہوں گے۔ آسٹریلوی وزیر اعظم ٹرن بُل نے آج تیس اکتوبر بروز اتوار سڈنی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’جو لوگ انسانی اسمگلروں کی مدد سے کشتیوں کے ذریعے آسٹریلیا آنا چاہتے ہیں ، ان کے لیے ہمارے دروازے بند ہیں۔‘‘

اس پابندی کا اطلاق فی الحال جنوبی بحر الکاہل کے جزائر پاپوا نيوگنی اور ناورُو پر قائم آسٹريلوی حراستی مراکز ميں مقیم پناہ گزینوں کے ساتھ ساتھ اُن تارکین وطن پر بھی ہو گا، جنہوں نے پہلے سے ہی دوسرے ممالک کا رخ کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ آسٹریلوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے ان افراد تک ایک ٹھوس اور واضح پیغام پہنچے گا، جنہوں نے تارکین وطن کو مسلسل یہ امید دلائے رکھی کہ حراستی مرکز میں قیام کے عرصے میں آسٹریلیا کی وفاقی حکومت ان سے متعلق اپنی سوچ میں تبدیلی لے آئے گی۔

Australien Einwanderungsgesetz gegen Flüchtlinge ist geplant (picture-alliance/dpa/Rossbach/Krepp)

سمندری راستے سے آسٹریلیا کا رخ کرنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو ناورُو اور پاپوا نیوگنی کے جزائر پر بنائے گئے کیمپوں میں رکھا جاتا ہے

دوسری جانب ہیومن رائٹس لاء سینٹر نامی مرکز سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں کے وکیل ڈینیل ویب کا کہنا ہے کہ مجوزہ تبدیلیاں مستقل بنیادوں پر خاندانوں کو منقسم کر دیں گی۔ آسٹریلین لائرز الائنس کے ترجمان گریگ بارنس کے مطابق اس ’ظالمانہ‘ منصوبے کو غیر آئینی قرار دیا جا سکتا ہے اور یہ انسانی حقوق کے حوالے سے ملکی ساکھ کے لیے ایک برا دھچکا ہے۔

آسٹریلیا میں لیبر پارٹی کی نائب صدر تانیہ پلی برسک نے وزیر اعظم ٹرن بُل کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حکومت کی بد انتظامی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ آیا لیبر پارٹی اس بل کی حمایت کرے گی۔

آسٹریلیا نے سمندر کے راستے آنے والے پناہ گزینوں کے بارے میں نہایت سخت پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ اس پالیسی کے تحت یا تو پناہ گزینوں کی کشتیوں کو واپس بھیج دیا جاتا ہے اور یا پھر سمندری راستے سے آسٹریلیا کا رخ کرنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو براہ راست آسٹریلیا آنے کی اجازت دینے کے بجائے انہیں ناورُو اور پاپوا نیوگنی کے جزائر پر بنائے گئے کیمپوں میں رکھا جاتا ہے۔

DW.COM