1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آسٹریلیا سے مہاجرین کی ’بے وقوفانہ ڈیل‘ پر غور کروں گا، ٹرمپ

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ آسٹریلیا کے ساتھ کی گئی مہاجرین کی ’بے وقوفانہ ڈیل‘ کی تفصیلات پڑھیں گے۔ ٹرمپ اور آسٹریلوی وزیر اعظم ٹرن بل کے مابین ہفتے کو ہونے والے ٹیلی فونک رابطے پر بھی متضاد خبریں موصول ہو رہی ہیں۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے آسٹریلوی وزیر اعظم میلکم ٹرن بل کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کو مختصر کرتے ہوئے کال بند کر دی تھی۔ تاہم آسٹریلوی وزیر اعظم نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ نے بعد ازاں اس فون کال کو ’اب تک کی سب سے بری‘ گفتگو قرار دیا تھا۔

مہاجرین: امریکی آسٹریلوی ڈیل کی تفصیلات خفیہ کیوں؟

مہاجر کیمپوں کے معائنے کا آغاز، امریکی حکام آسٹریلیا میں

مہاجر بچوں کی ’اذیت ناک صورت حال کی ذمہ دار‘ آسٹریلوی حکومت

آج جمعرات دو فروری کے روز  امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ ٹرمپ کی آسٹریلوی وزیر اعظم میلکم ٹرن بُل کے ساتھ حالیہ گفتگو میں غصے کا عنصر بھی شامل تھا اور یہ فون کال یکدم ختم کر دی گئی تھی۔ خود آسٹریلوی وزیر اعظم ٹرن بُل نے اس گفتگو کو ’نجی‘ قرار دیتے ہوئے کوئی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا تھا اور صرف اتنا کہا تھا کہ ہفتے کے روز صدر ٹرمپ سے فون پر ہونے والی یہ بات چیت کھلے پن سے کی گئی۔

بدھ کے دن ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ سابق امریکی حکومت اور آسٹریلیا کے مابین  اس ’بے وقوفانہ معاہدے‘ پر نئے سرے سے غور کریں گے، جس کے تحت واشنگٹن نے آسٹریلیا سے سینکڑوں مہاجرین کو اپنے ہاں قبول کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ آج جمعرات کے روز ٹرمپ کے اس بیان سے قبل امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ٹرمپ کی آسٹریلوی وزیر اعظم میلکم ٹرن بُل کے ساتھ حالیہ گفتگو کے حوالے سے ایسی تفصیلات لکھی تھیں، جنہوں نے سیاسی مبصرین کو حیران کر دیا تھا۔

واشنگٹن پوسٹ نے اعلیٰ امریکی سفارتی ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ دونوں رہنماؤں کے مابین یہ ٹیلی فون کال ایک گھنٹے تک جاری رہنا تھی تاہم امریکی صدر نے پچیس منٹ بعد ہی ٹیلی فون بند کر دیا تھا۔ خود آسٹریلوی وزیر اعظم ٹرن بُل نے اس گفتگو کو ’پرائیویٹ‘ قرار دے کر اس کی کوئی تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔

قبل ازیں اسی ہفتے پیر کے دن ٹرن بل نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ انہوں نے مہاجرین کی ڈیل پر قائم رہنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان شین اسپائسر نے بھی کہا ہے کہ امریکی صدر کا ارادہ ہے کہ وہ آسٹریلیا کے ساتھ طے پانے والی اس ڈیل پر عملدرآمد کریں گے۔ تاہم بدھ کے دن صدر ٹرمپ کی اس ٹوئٹ نے اس معاملے کو متنازعہ بنا دیا، جس کے متن کے مطابق ٹرمپ نے اس ڈیل کو ’بے وقوفانہ‘ قرار دیتے ہوئے اس پر نظر ثانی کا عندیہ دیا تھا۔

DW.COM