1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

’آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے پاکستانی دورے کا امکان نہیں‘

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کرکٹ سیریز اگلے برس کے اوائل میں کھیلی جانی ہے۔ کرکٹ آسٹریلیا کے سربراہ کے مطابق اُن کی ٹیم کے پاکستانی دورے کا امکان نہیں ہے۔

  آسٹریلین کرکٹ بورڈ کے سربراہ  جیمز سدرلینڈ نے واضح کیا ہے کہ آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے پاکستان  میں مختصر مدت کی سیریز کھیلنے کی کوئی امید نہیں ہے۔

واضح رہے آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم نے آئندہ سال پاکستان کا دورہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے طے شدہ پلان کے تحت کرنا ہے۔ آسٹریلیا کرکٹ بورڈ کے چیف نے اس ٹور کے ممکن ہونے کا مثبت جواب دیا لیکن اس  شبے کا اظہار کیا کہ انہیں کوئی امید نظر نہیں آتی کہ ٹیم مختصر دورے پر  پاکستان کھیلنے کے لیے جا سکتی ہے۔  

آزادی کپ کا پہلا معرکہ: بابر نے پاکستان کی دھاک بٹھا دی

پاکستان میں انٹرنيشنل کرکٹ کی واپسی کا سورج طلوع

پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ  کی واپسی، میدان کل سجے گا

لاہور میں آزادی کپ: ٹکٹ کی قیمت عام آدمی کی پہنچ سے باہر؟

نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو نے  یہ با ت انٹر نیشنل کر کٹ کونسل  کے اس پیغام  کے تناظر میں کہی کے اور ٹیموں کو بھی پاکستان کے دورے پر جانا چاہیے،جیسا کے آج کل ورلڈ الیون  پاکستان میں تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی مختصر سیریز کھیل رہی ہے۔

Pakistan Cricket (DW/T. Saeed)

ورلڈ الیون اور پاکستان ٹیم کے کپتان آزادی کپ کے ہمراہ

واضح رہے کہ  پاکستان کرکٹ ٹیم نے پہلا میچ بیس رنز سے جیتا تھا لیکن دوسرا میچ ورلڈ الیون کی ٹیم سات وکٹوں سے جیت گئی تھی اب سیریز کا فیصلہ تیسرے اور آخری میچ میں ہونا باقی ہے۔

آزادی کپ کی اس سیریز کا فائنل آج جمعے کی شام قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔

اُدھر زمبابوے کرکٹ بورڈ نے اپنے نو کھلاڑیوں کو افغانستان میں کھیلی جانے والی شپگیزه ٹی ٹوئنٹی لیگ سے واپس بلانے کے احکامات جاری کردیے ہیں ۔یہ احکامات افغانستان میں ہونے والے حالیہ خودکش دھماکوں کے بعد دیے گئےہیں، جو کے اسٹیڈیم کے قریب کیے گئے تھے ۔

حکام کے مطابق  بدھ کے روز میچ کے دوران الوکوزئی کرکٹ اسٹیڈیم کابل کے باہر  ہونے والے دھماکوں میں تین افراد ہلاک اور تقریباً بارہ زخمی ہوئے تھے۔

افغانستان شپگیزہ لیگ میں چھ ٹیمیں کھیل رہی ہیں جن میں شامل غیر ملکی کھلاڑیوں کا تعلق  زمبابوے سمیت جنوبی افریقہ، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز سے  ہے۔

DW.COM