1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آسٹریلوی فوجیوں پر افغان شہریوں کی ہلاکت کے الزام ختم

آسٹریلیا میں کورٹ مارشل کا سامنا کرنے والے تین فوجی کمانڈوز کے خلاف متعدد افغان شہریوں کی دو سال قبل ہلاکت سے متعلق تمام الزامات ختم کر دیے گئے ہیں۔

default

ان پر الزام تھا کہ وہ 2009ء میں ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران چھ افغان شہریوں کی ہلاکت میں ملوث تھے، جن میں سے پانچ بچے تھے۔ یہ تینوں فوجی، جن کے نام نہیں بتائے گئے، آسٹریلیا کے وہ پہلے فوجی تھے، جن پر جنگ میں عام شہریوں کی ہلاکت سے متعلق فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ ان فوجیوں کا کہنا تھا کہ افغانستان کے صوبہ اروزگان کے ایک مکان سے ان پر فائرنگ کی گئی تھی اور دستی بم پھینکے گئے تھے، جس کے بعد انہوں نے اس مکان پر دھاوا بول دیا تھا۔

آسٹریلوی فوج کی جانب سے ان فوجیوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے فیصلے پر سخت عوامی رد عمل دیکھنے میں آیا تھا اور ان کے خلاف الزامات ختم کرانے کے لیے 20 ہزار سے زائد شہریوں نے ایک درخواست پر دستخط بھی کیے تھے۔

Deutscher Soldat getötet in Afghanistan

آسٹریلیا کے تین کمانڈوز پر چھ افغان شہریوں کی ہلاکت کا الزام تھا

منگل کو آسٹریلوی وزیر دفاع اسٹیفن اسمتھ نے کہا کہ وہ فوج کے قانونی شعبےکی ڈائریکٹر بریگیڈیر لِن میک ڈیڈ سے اس بارے میں رپورٹ طلب کریں گے کہ انہوں نے ملزمان کے خلاف الزامات عائد کرنے کا فیصلہ کیوں کیا اور یہ مقدمات کس وجہ سے ناکام رہے۔

اسکائی ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’یہ پہلا موقع ہے کہ حقیقی جنگ کے دوران ہمارے تین فوجیوں پر بے ارادہ قتل کے الزامات عائد کیے گئے۔‘‘ وزیر دفاع نے کہا کہ اب جبکہ اس معاملے کی گرد بیٹھ چکی ہے، ہمیں اس کا مکمل جائزہ لینا چاہیے۔ اسٹیفن اسمتھ نے کہا کہ وہ وزارت دفاع کے سینئر حکام اور فوجی کمانڈروں سے بھی اس معاملے پر مشاورت کریں گے۔

Bundeswehr in Talokan Afghanistan Demonstration Zwischenfall

افغانستان میں طالبان کے ساتھ ساتھ نیٹو کے حملوں میں بھی شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے

گزشتہ ستمبر میں ان فوجیوں پر بے ارادہ قتل، خطرناک طرز عمل اور قانونی حکم کی تعمیل نہ کرنے کے الزامات عائد کرنے کے بعد سے ملکی فوج کے قانونی شعبے کی ڈائریکٹر بریگیڈیر  لِن میک ڈیڈ کو عوام اور فوجی افسران کی جانب سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ دو فوجیوں نے افغانستان میں اُن شہری ہلاکتوں کا الزام ایک باغی پر لگایا تھا۔ تاہم وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ انہیں لِن میک ڈیڈ کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے۔

آسٹریلیا کی دفاعی فورس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ڈیوڈ ہرلے نے کہا کہ اس قانونی کارروائی کے ذریعے فوج نے اس بات کو یقینی بنایا  ہے کہ تینوں ملزمان کو منصفانہ سماعت کا موقع ملے اور فوج کے قانونی عمل کی دیانت داری قائم رہے۔

آسٹریلیا میں افغان جنگ کے لیے عوامی حمایت میں کمی آ چکی ہے جبکہ گزشتہ ہفتے تک اس جنگ میں مارے جانے والے آسٹریلوی فوجیوں کی تعداد 29 تک پہنچ چکی تھی۔ آسٹریلیا کے 1550 فوجی افغانستان میں تعینات ہیں جو نیٹو سے باہر کسی ملک کا سب سے بڑا فوجی دستہ ہے۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM