1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آسٹریلوی عام انتخابات کا نتیجہ سیاسی بے یقینی

آسٹریلیا کے پارلیمانی الیکشن کے نتائج کے مطابق کوئی بھی سیاسی پارٹی حکومت سازی کے لیے قطعی اکثریت حاصل نہیں کر سکی۔ ناقدین کے مطابق یہ پیشرفت ملک میں سیاسی تعطل اور اقتصادی عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا کہ آسٹریلوی انتخابات میں واضح نتائج سامنے نہ آنے کے باعث پیدا ہونے والے سیاسی تعطل کو ختم کرنے کے لیے بڑی پارٹیاں مبینہ طور پر ’ہارس ٹریڈنگ‘ کے عمل میں مصروف ہو گئی ہیں۔

ہفتے کے دن منعقد ہوئے الیکشن میں انتہائی کانٹے دار مقابلے کے نتیجے میں دائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والے اعتدال پسند وزیر اعظم میلکم ٹرن بل کی پارٹی کو حکومت سازی کے لیے اب چھوٹی پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کی حمایت کی ضرورت ہو گی۔

دوسری طرف اپوزیشن لیبر پارٹی بھی اس پوزیشن میں ہے کہ وہ آزاد امیدواروں اور چھوٹی سیاسی پارٹیوں کی حمایت حاصل کرتے ہوئے حکومت سازی میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ تاہم ٹرن بل نے اتوار کے دن اس امید کا اظہار کیا کہ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر آئندہ تین سال کے لیے اقتدار سنبھال لیں گے۔

آسٹریلوی الیکشن کمیشن کے مطابق 150 نشستوں والی پارلیمان میں ٹرن بل کی پارٹی کو 67 جبکہ لیبر پارٹی کو 71 سیٹوں پر کامیابی ملی ہے۔ ان انتخابات میں گرین پارٹی اور آزاد امیدواروں نے بھی پانچ نشستوں پر کامیابیاں سمیٹی ہیں۔ سات نشتسوں سے متعلق حتمی نتائج آنا ابھی باقی ہیں۔

ٹرن بل کا کہنا ہے کہ وہ حکومت سازی کے لیے مطلوبہ 76 نشستیں حاصل کر لیں گے۔ تاہم ناقدین کا خیال ہے کہ یہ نتائج آسٹریلیا میں سیاسی تعطل کا باعث بن سکتے ہیں، جہاں حکومت سازی میں کامیاب ہونے والی کوئی بھی پارٹی قطعی اکثریت سے محروم رہے گی۔

Australien Parlamentswahl - Pauline Hanson

ناقدین کے مطابق یہ پیشرفت ملک میں سیاسی تعطل اور اقتصادی عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے

اگر ٹرن بل کی سیاسی جماعت حکومت سازی میں کامیاب نہ ہو سکی تو آسٹریلیا کی تاریخ میں پچاسی برس بعد یہ پہلی مرتبہ ہو گا کہ وہاں کوئی سیاسی پارٹی اپنی پہلی مدت کے بعد ہی اقتدار سے محروم ہو جائے گی۔

دو جولائی بروز ہفتہ آسٹریلیا میں ایوان زیریں کی 150 جبکہ ایوان بالا کی 76 نشستوں پر الیکشن منعقد کرائے گئے تھے۔ سینیٹ کے الیکشن کے نتائج آئندہ کچھ ہفتوں میں سامنے آئیں گے۔