1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آسٹریلوی شہر میں پہلی مسجد کی مجوزہ تعمیر کے باعث جھڑپیں

آسٹریلیا کے ایک چھوٹے سے شہر میں مسلمانوں کی پہلی مسجد کی مجوزہ تعمیر وہاں کشیدگی اور اس منصوبے کے حامیوں اور مخالفین کے مابین جھڑپوں کی وجہ بن گئی، جس دوران حریف مظاہرین کے مابین باقاعدہ تصادم بھی ہوا۔

Anti Islam Demo in Sydney

سڈنی میں ایک اسلام مخالف ریلی کے شرکاء

سڈنی سے مختلف نیوز ایجنسیوں کی آج ہفتہ دس اکتوبر کے روز ملنے والی رپورٹوں کے مطابق انتہائی خوبصورت قدرتی مناظر والے اس چھوٹے سے شہر کا نام بَینڈیگو Bendigo ہے، جو میلبورن سے شمال کی طرف 153 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ وہاں مسلمانوں کی پہلی باقاعدہ عبادت گاہ کی تعمیر کے مجوزہ منصوبے کے حق میں اور خلاف ہونے والے ایک مظاہرے میں آج اطراف کے مجموعی طور پر سینکڑوں مظاہرین نے حصہ لیا۔

اس مسجد کی تعمیر کے مخالف مظاہرین کا تعلق انتہائی دائیں بازو کے متحدہ محب وطن محاذ نامی گروپ یا یونائیٹڈ پیٹریئٹس فرنٹ سے تھا، جن کے تعداد 300 کے قریب تھی۔ ان کے مخالف مظاہرین، جو تعداد میں زیادہ تھے، کا تعلق نسل پرستی کے خلاف سرگرم تنظیم ’ریلی برائے سماجی تنوع‘ سے تھا جب کہ پولیس کی ایک بڑی نفری اس لیے موقع پر موجود تھی کہ دونوں گروپوں کے مابین تصادم کو روکا جا سکے۔

اس موقع پر بَینڈیگو میں کشیدگی اتنی بڑھ گئی کہ پولیس فورس کوشش کے باوجود ایک دوسرے کے مخالف مظاہرین میں تصادم کو نہ روک سکی اور نتیجہ ہاتھا پائی اور جھڑپوں کی صورت میں نکلا۔ یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب انتہائی دائیں بازو کے مظاہرین میں سے ایک نے نسل پرستی کے مخالف مظاہرین کے گروپ میں جا کر وہاں موجود افراد کی ویڈیو بنانا شروع کر دی۔

اس تنازعے میں ’محب وطن شہریوں کے متحدہ محاذ‘ نامی انتہائی دائیں بازو کے گروپ کی سوچ کیا ہے، اس کی وضاحت کرتے ہوئے نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے آسٹریلوی اخبار The Age کے حوالے سے بتایا کہ اس گروپ کے آرگنائزر بلیئر کَوٹرَیل نے مسجد کی تعمیر کے مخالف مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’تم یا تو آسٹریلوی ہو سکتے ہو، یا پھر مسلمان۔ تم بیک وقت دونوں نہیں ہو سکتے۔‘‘ Blair Cottrell نے بہت جذباتی انداز میں مزید کہا، ’’ہماری تعداد بڑھے گی۔ ہم مضبوط ہوتے جائیں گے۔ ہمیں روکنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہمیں قتل کر دیا جائے۔‘‘

اس کے برعکس نسل پرستی کے مخالف مظاہرین کے نمائندوں نے اپنے ساتھیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’ہم مسلمانوں کو خوش آمدید کہتے ہیں، لیکن نسل پرستوں کو نہیں۔‘‘

آسٹریلیا کے اس چھوٹے سے شہر کی بلدیہ نے حال ہی میں مقامی مسلمانوں کو وہاں اپنی پہلی مسجد تعمیر کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ یہ فیصلہ کئی مقامی باشندوں کی طرف سے شدید مخالفت کے باوجود لیکن اکثریتی رائے سے کیا گیا تھا۔

Sydney Andrew Scipione Polizei PK Australien Mord Polizei spricht von Terrorakt nur weil der Junge ein Muslim ist

سڈنی کے پولیس کمشنر دو اکتوبر کے روز پندرہ سالہ مسلمان لڑکے کے ہاتھوں ایک پولیس اہلکار کے قتل کی تفصیلات بتاتے ہوئے

بَینڈیگو نامی یہ قصبہ آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ میں واقع ہے، جہاں کے وزیر اعلیٰ ڈینیئل اینڈریوز نے مسجد کی تعمیر کے خلاف نفرت انگیز مہم کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ’منصوبے کے مخالفین بَینڈیگو کے شہریوں پر اثر انداز ہونے میں کامیاب‘ نہیں ہوں گے۔

آج ہفتے کے دن ہی آسٹریلیا کے کئی دیگر بڑے شہروں میں بھی دائیں بازو کے اسی گروپ کی طرف سے احتجاجی مظاہروں کا پروگرام بنایا گیا تھا لیکن یہ تقریباﹰ سبھی مظاہرے اس لیے ناکام رہے کہ ان میں عوامی شرکت نہ ہونے کے برابر رہی۔ سڈنی میں صرف بیس اور ہوبارٹ میں محض نو اسلام مخالف مظاہرین جمع ہوئے۔

آسٹریلیا میں حالیہ دنوں میں اسلام مخالف عوامی جذبات میں اس لیے بھی اضافہ ہوا ہے کہ قریب ایک ہفتہ قبل دو اکتوبر کے روز سڈنی میں انتہا پسندانہ نظریات کے حامل ایک پندرہ سالہ مسلمان لڑکے فرہاد جبار نے ایک مقامی پولیس اہلکار کو قتل کر دیا تھا اور تفتیشی ماہرین اس قتل کو واضح طور پر دہشت گردی قرار دے رہے ہیں۔

اسی دوران آسٹریلوی وزیر اعظم میلکم ٹرن بُل نے آج کہا کہ آسٹریلیا میں ہر رنگ، نسل اور مذہب کے افراد کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے مذہبی عقائد کا آزادانہ اظہار کر سکیں تاہم کسی کو بھی یہ اجازت ہے اور نہ دی جائے گی کہ وہ کسی بھی دوسرے سماجی یا مذہبی گروپ کو نقصان پہنچائے یا اس کے خلاف نفرت پھیلائے۔

DW.COM