1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’آسٹریلوی شہری اپنے غیر قانونی ہتھیار فوراﹰ جمع کرائیں‘

آسٹریلیا کی حکومت نے ملک بھر میں غیرقانونی ہتھیاروں کو جمع کرانے کی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس مہم کے دوران بغیر لائسنس کے رکھے گئے ہتھیار جمع کرانے پر کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

آسٹریلوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ یکم جولائی سے ملک بھر میں تین ماہ کے عرصے کے لیے تمام غیر قانونی اسلحہ جمع کرنے کی ایک مہم شروع کی جا رہی ہے۔ آسٹریلوی وزیر انصاف مائیکل کینان کا کہنا ہے کہ مہم کے دوران تمام مقامی افراد کو اپنے بغیر لائسنس کے ہتھیار حکام کو جمع کرانا ہوں گے اور مقررہ مدت کے بعد غیر قانونی ہتھیار اپنے پاس رکھنے والے ہر شخص کو سخت تادیبی کارروائی کا سامنا ہو گا۔ یہ مہم تیس ستمبر کو ختم ہو گی۔

وزیر انصاف کے مطابق غیرقانونی اسلحہ جمع کرانے کی مقررہ مدت یعنی تین ماہ بعد کوئی بھی غیرقانونی ہتھیار اگر کسی شخص کے قبضے سے برآمد ہو گا، تو اُسے دو لاکھ بارہ ہزار امریکی ڈالر سے زائد کے برابر جرمانہ یا چودہ برس کی سزائے قید سنائی جا سکے گی۔

مائیکل کینان کا کہنا ہے کہ اُن کا ملک ایک نازک دور سے گزر رہا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملکی سلامتی کی مجموعی صورت حال میں مسلسل گراوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ کینان کے مطابق اس صورت حال میں بہتری کے ضرورت ہے۔ آسٹریلوی وزیر انصاف نے غیرقانونی ہتھیاروں پر کنٹرول کی وضاحت کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ حالیہ کچھ عرصے کے دوران کیے گئے دہشت گردانہ حملوں میں غیرقانونی ہتھیاروں کو استعمال کیا گیا تھا۔

Symbolbild Waffe (picture-alliance/AP Photo/L. Sladky)

آآسٹریلیا کے گن کنٹرول قوانین پہلے ہی انتہائی سخت ہیں

آسٹریلیا کے سکیورٹی ماہرین نے گزشتہ برس اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ آسٹریلیا میں ڈھائی لاکھ سے زائد غیرقانونی ہتھیار موجود ہیں اور یہ بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔ دو برس قبل سڈنی کے ایک کیفے پر کیے گئے حملے میں بھی غیرقانونی ہتھیار استعمال کیے گئے تھے اور اس دہشت گردانہ واقعے میں کم از کم تین افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔

آسٹریلیا میں گن کنٹرول کے انتہائی سخت قوانین پہلے ہی نافذالعمل ہیں۔ آسٹریلوی ریاست تسمانیہ کے شہر پورٹ آرتھر میں سن 1996 میں ایک شخص نے بلا اشتعال فائرنگ کر کے کم از کم پینتیس افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ پورٹ آرتھر کے اس واقعے کے بعد نیم خودکار ہتھیاروں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔