1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آسٹریلوی جہادی کی شہریت منسوخ کر دی گئی

آسٹریلیا کی حکومت نے شام میں جہادی سرگرمیوں میں شرکت کرنے پر ایک انتہا پسند کی شہریت منسوخ کر دی ہے۔ شہریت کی منسوخی انسدادِ دہشت گردی کے نئے قوانین کی روشنی میں کی گئی ہے۔

 آسٹریلیا کے امیگریشن محکمے کے ترجمان نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ ایک شخص کی شہریت کو یقینی طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ترجمان نے تاہم اس حوالے سے مزید یہ نہیں بتایا کہ کس شخص کو آسٹریلوی شہریت سے محروم کیا گیا اور نہ ہی مزید کوئی تفصیل فراہم کی ہے۔ جس شخص کی شہرت ختم کی گئی ہے، اس کا نام  خالد شروف ہے اور یہ نام آج ہفتہ گیارہ فروری کو شائع ہونے والے آسٹریلوی اخبارات میں چھپا ہے۔

 آسٹریلیا میں جہادی سرگرمیوں میں شرکت پر قومیت منسوخ کرنے کا قانون دو برس قبل منظور کیا گیا تھا۔ اسی قانون کے تحت کینبرا حکومت نے جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ساتھ جنگی سرگرمیوں میں شرکت کرنے والے خالد شروف کی آسٹریلوی شہریت منسوخ کی ہے۔

شہریت کی منسوخی کے بعد یقینی طور پر شروف کو آسٹریلیا کو لازماً خیرباد کہنا ہوگا۔ خالد شروف دوہری قومیت رکھتا ہے۔ اس کے والدین کا تعلق لبنان سے ہے۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ آسٹریلیا میں لبنان سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی ایک بڑی کمیونٹی آباد ہے اور یہ لوگ خاصے متمول خیال کیے جاتے ہیں۔

Anti Islam Demo in Sydney (picture-alliance/dpa/Tsikas)

آسٹریلیا میں بھی اسلام مخالف مظاہروں کا انتظام کیا جاتا ہے

 سن 2014 میں خالد شروف کی ایسی تصاویر سامنے آئی تھیں جن میں وہ مقتول شامی فوجیوں کے کٹے ہوئے سر اٹھائے ہوئے تھا۔ اس تصویر میں اُس کا سات برس کا بیٹا بھی موجود تھا۔ اس تصویر میں دکھائی گئی بربریت کی عالمی سطح پر بھی شدید مذمت کی گئی تھی۔

 شروف کی آسٹریلوی شہریت سن 2015 میں منظور کیے گئے ایک قانون کے تحت منسوخ کی گئی ہے۔ اس قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ کوئی بھی آسٹریلوی شہری اگر عسکریت پسندی میں ملوث پایا گیا یا کسی کالعدم تنظیم کی رکنیت کا حامل ہوا تو اُس کی شہریت ختم کی جا سکتی ہے۔

آسٹریلیا، امریکا کی شام اور عراق میں سرگرم جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف عالمی جنگ کا ایک اہم اتحادی ہے۔ اس ملک  میں بھی بنیاد پرستانہ رجحان رکھنے والے سخت عقیدے کے مسلمانوں کو حکومتی نگرانی کا سامنا ہے۔ حکومت نے ایسے سخت عقیدے کے حامل افراد کی مشکوک سرگرمیوں کے تناظر میں سکیورٹی کو چوکس رکھا ہوا ہے۔ مختلف جائزوں کے مطابق کئی آسٹریلوی مسلمان انتہا پسند مشرقِ وسطیٰ میں جہادی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔