1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

آسٹریلوی تحقیق: آٹھ فیصد خواتین زچگی کے بعد ڈپریشن کا شکار

حال ہی میں آسٹریلیا میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق تقریباﹰ آٹھ فیصد خواتین میں بچے کی ولادت کے بعد ڈپریشن کی علامات پیدا ہو جاتی ہیں۔

default

جبکہ بڑی عمر میں پہلا بچہ پیدا کرنے والی خواتین اور کم عمر ماؤں میں ڈپریشن کے امکانات تقریباً یکساں ہوتے ہیں۔

بچے کی پیدائش کے بعد ہونے والے ڈپریشن کے حوالے سے کی جانے والی اس تحقیق میں 500 ایسی خواتین کو شامل کیا گیا، جو پہلی بار زچگی کے عمل سے گزریں تھیں۔ میک کوئیر یونیورسٹی میں نفسیات کی پروفیسر کیتھرین میک میہن کے مطابق 37 سال سے زائد عمر کی خواتین اور نسبتاً کم عمر کی لڑکیوں میں زچگی کے بعد پائے جانے والے ڈپریشن میں کچھ خاص فرق نہیں تھا۔ اس سے قطع نظر کہ وہ قدرتی طور پر ماں بنیں یا پھر انہوں نے علاج کے بعد اولاد کو جنم دیا ۔

میک میہن کا کہنا تھا کہ ‘‘بڑی عمر کی مائیں اکثر کم عمر ماؤں کے مقابلے میں زیادہ زیر بحث رہتی ہیں۔ مثال کے طور پر بڑی عمر کی ماؤں کو زچگی کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا یا ایک طویل مدت کے کیریئر کے بعد اپنے طرز زندگی میں تبدیلیاں لانا۔ اس بارے میں بات تو بہت کی جاتی ہے مگر اعداد و شمار کے لحاظ سے اس حوالے سے معلومات کافی محدود ہیں۔‘‘ ڈاکٹروں کے مطابق بڑی عمر کی ماؤں میں حمل سے متعلقہ پیچیدگیوں کا زیادہ خطرے ہوتا ہے۔

Babyboom in der Ukraine

ڈاکٹروں کے مطابق بڑی عمر کی ماؤں میں حمل سے متعلقہ پیچیدگیوں کا زیادہ خطرے ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے لیے میک میہن کی ٹیم نے 266 قدرتی طور پراور 275 علاج کے زریعے ماں بننے والی خواتین سے معلومات اکھٹی کیں۔ان سب خواتین کو حمل کے آخری مہینوں میں ڈپریشن سے متعلقہ سوالنامے دیے گئے۔ پھر جب ان کے بچے چار ماہ کے ہو گئے تو ایک مرتبہ پھر ان کے انٹرویوکیے گئے۔ نتائج کے مطابق عمروں سے قطع نظر آٹھ فیصد خواتین میں ڈپریشن کی اہم علامات پائی گئیں۔ ان میں سے 180خواتین کی عمر37 برس یا اس سے زيادہ تھی۔

میک میہن کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ابھی بھی کئی ایسے سوالات ہیں جن پر مستقبل میں تحقیق کی جاسکتی ہے۔ مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر کہ کیا یہ مائیں اپنے بچوں کی دیکھ بھال مینو پوز کےدوران تو نہیں کر رہیں، جس کے دوران وہ شدید ڈپریشن سے دو چار ہو سکتی ہیں۔

رپورٹ: عائشہ حسن

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس