1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

آسٹریا کی جانب سے سرحدی بندش کا منصوبہ ’شرمناک‘ ہے، اٹلی

اطالوی وزیر اعظم ماتیو رینزی نے آسٹریا کی جانب سے دونوں ممالک کے مابین سرحدی راستہ بند کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک شرمناک اقدام قرار دیا ہے۔ اٹلی اور آسٹریا کی سرحد ایلپس کے پہاڑی سلسلے میں ملتی ہے۔

اٹلی کے دار الحکومت روم سے ملنے والی خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق اطالوی وزیر اعظم نے یہ بیان بدھ ستائیس اپریل کی شام آسٹریا کی جانب سے دونوں ممالک کے مشترکہ سرحد بند کر دینے کی خبریں آنے کے بعد دیا۔

جرمنی نے 2016ء میں اب تک کتنے پاکستانیوں کو پناہ دی؟

یورپی کمیشن نے سیاسی پناہ کے نئے قوانین تجویز کر دیے

ماتیو رینزی کا کہنا تھا کہ سرحد بند کرنے کا فیصلہ ’نہ صرف یورپی قوانین کی شرمناک خلاف ورزی ہے بلکہ یہ تاریخ، عقل اور مستقبل کے بھی خلاف ہے‘۔

انہوں نے بحیرہ روم عبور کر کے اٹلی پہنچنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ تعداد 2014ء اور 2015ء کے دوران انہی سمندری راستوں کے ذریعے اٹلی پہنچنے والے پناہ گزینوں کی تعداد سے زیادہ نہیں ہے۔

رینزی کا کہنا تھا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یورپ میں جاری پناہ گزینوں کے بحران کے بارے میں پائے جانے والے خدشات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی ویانا سے ملنے والی رپورٹوں میں آسٹریا کے مقامی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ویانا حکومت سخت بارڈر کنٹرول متعارف کرانے کا فیصلہ کر چکی ہے۔

ایک آسٹرین اخبار ’ٹِیرولر ٹاگس سائٹنگ‘ نے پولیس حکام کے حوالے سے خبر دی تھی کہ آسٹرین حکام کو خدشہ ہے کہ موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی اٹلی کے راستے آسٹریا پہنچنے والے پناہ کے متلاشی غیر ملکیوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہو سکتا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:33

یورپ میں بہتر زندگی کا ادھورا خواب، ملک بدر ہوتے ‫پاکستانی‬

اسی تناظر میں آسٹریا اور اٹلی کے مابین سفر کے لیے استعمال ہونے والی ’برینَر‘ Brenner کراسنگ نامی اہم سرحدی گزرگاہ کو خاردار تاریں لگا کر بند کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

بارڈر کنٹرول متعارف کرائے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفر کرنے والی تمام گاڑیوں کو سرحدی گزرگاہ پر بنائے گئے چیک پوائنٹس سے گزرنا ہو گا، جہاں ان کی کڑی جانچ کی جائے گی۔ اس فیصلے کا مقصد غیر قانونی تارکین وطن کو آسٹریا کی سرحد پار کرنے سے روکنا ہے۔

یورپی یونین اور ترکی کے مابین تارکین وطن کی واپس ترکی ملک بدری کے حوالے سے طے پانے والے متنازعہ معاہدے کے بعد اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ لیبیا اور دیگر افریقی ممالک کے ساحلوں سے غیر قانونی طور پر اٹلی کے لیے روانہ ہونے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

ترکی سے مہاجرین کی یورپ قانونی آمد بھی شروع

DW.COM

Audios and videos on the topic