آسٹریا کا اطالوی سرحد پر فوج تعینات کرنے کا منصوبہ | مہاجرین کا بحران | DW | 02.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

آسٹریا کا اطالوی سرحد پر فوج تعینات کرنے کا منصوبہ

آسٹریا کی حکومت اٹلی سے متصل اپنی ایک اہم سرحدی گزر گاہ پر فوج تعینات کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس مجوزہ اقدام کا مقصد اٹلی سے آسٹریا میں مہاجرین کا داخلہ روکنا بتایا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے آسٹریا کی وزارت دفاع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایلپس کے پہاڑی سلسلے میں آسٹریا اور اٹلی کو ملانے والے برینر پاس پر فوج تعینات کی جا سکتی ہے۔

آسٹریائی وزیر دفاع ہنس پیٹر ڈوسکوسیل نے ایک جرمن اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ خدشہ ہے کہ مہاجرین کی ایک بڑی تعداد اس راستے سے آسٹریا داخل ہو سکتی ہے، اس لیے اس مقام پر سکیورٹی بڑھانے کا پروگرام بنایا جا رہا ہے۔

یورپ کو درپیش مہاجرین کے بحران پر قابو پانے کے حوالے سے آسٹریا اور جرمنی کی حکومتوں کے مابین اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ویانا حکومت پہلے بھی کہہ چکی ہے کہ وہ مہاجرین کے راستے روکنے کی خاطر سخت اقدامات اٹھا سکتی ہے۔

ہفتے کے دن آسٹریائی وزیر دفاع ڈوسکوسیل نے کہا، ’’یورپی یونین کی رکن ریاستوں کی بیرونی سرحدوں کی نگرانی ابھی تک مؤثر نہیں بنائی جا سکی ہے، اس لیے آسٹریا جلد ہی قومی سرحدوں کی نگرانی کے لیے سخت ضوابط طے کر لے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں بیرنر پاس پر سختی کی جائے گی اور وہاں فوج تعینات کی جائے گی۔

جرمن روزنامے ’ڈی ویلٹ‘ سے گفتگو میں ڈوسکوسیل کا مزید کہنا تھا کہ اس سرحدی گزر گاہ پر تعینات کیے جانے والے فوجی دستے سرحدی محافظوں کی مدد فراہم کرنے کے علاوہ رجسٹریشن کے عمل میں بھی معاونت کریں گے اور ساتھ ہی امدادی کاموں میں بھی ہاتھ بٹائیں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد غیر قانونی مہاجرین کے داخلے کو روکنا ہو گا۔

آسٹریا کی حکومت کو خدشہ ہے کہ سمندری راستوں سے شمالی افریقی ممالک سے اٹلی پہنچنے والے مہاجرین اور تارکین وطن بلغاریہ اور البانیا سے ہو کر شمالی یورپ پہنچنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ آسٹریا اور بلقان کی ریاستوں نے یونان میں موجود مہاجرین کے راستے پہلے ہی مسدود کر رکھے ہیں۔

ڈوسکوسیل نے مطالبہ کیا ہے کہ بحیرہ روم سے اٹلی کا رخ کرنے والے مہاجرین کی حوصلہ شکنی کی خاطر سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران ہی پانچ ہزار مہاجرین اس سمندری راستے سے یورپ پہنچ چکے ہیں جبکہ موسم معتدل ہونے سے مہاجرین کی بڑی تعداد یورپ کا رخ کر سکتی ہے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات