1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

آسٹریا: پناہ گزینوں کے کیمپ سے دو شامی ’جہادی‘ بھائی گرفتار

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آسٹرین پولیس نے شام سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں کو دہشت گرد تنظیموں سے وابستگی کے شبے میں گرفتار کر لیا ہے۔ ان دونوں بھائیوں کی عمریں سولہ اور اٹھارہ برس بتائی گئی ہیں۔

آسٹریا کے دارالحکومت ویانا سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ملکی دفتر استغاثہ نے بتایا کہ ان دونوں مشتبہ ’جہادیوں‘ کی گرفتاری جرمن حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی وجہ سے ممکن ہوئی۔

بحران زدہ ملک شام سے تعلق رکھنے والے یہ دونوں مبینہ دہشت گرد جنوبی آسٹریا میں پناہ گزینوں کے ایک کیمپ میں رہ رہے تھے۔

ویانا میں ریاستی دفتر استغاثہ کا کہنا ہے کہ ان میں سے سولہ سالہ مبینہ ملزم پر الزام ہے کہ اس کا تعلق شام میں سرگرم دہشت گرد تنظیم ’دولت اسلامیہ‘ سے ہے جب کہ اس کے بڑے بھائی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ احرار الشام نامی دہشت گرد تنظیم کی جانب سے شام میں لڑائی میں شامل رہا ہے۔

مبینہ طور پر یہ دونوں بھائی دو مخالف تنظیموں سے وابستگی کی وجہ سے شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران ایک دوسرے کے مد مقابل جنگ میں شامل رہے ہیں۔

آسٹرین دفتر استغاثہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ ان دنوں پر دہشت گردی میں ملوث ہونے، اقدام قتل اور تشدد کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کا ایک تیسرا بھائی پہلے ہی جرمنی میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ان گرفتاریوں کے بعد آسٹریا میں مہاجرین کے حوالے سے جاری بحث میں شدت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ حالیہ یورپی تاریخ میں تارکین وطن کے اس بد ترین بحران پر آسٹرین عوام کی رائے پہلے ہی منقسم ہے۔

پیرس حملوں میں ملوث دہشت گردوں کے مہاجرین کے روپ میں یورپ داخلے کی خبروں کے بعد سے دائیں بازو کی مہاجرین مخالف تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کی حمایت میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

PEGIDA Demonstration in Wien 2.2.2015

پیرس حملوں میں ملوث دہشت گردوں کے مہاجرین کے روپ میں یورپ داخلے کی خبروں کے بعد سے آسٹریا میں مہاجرین مخالف تنظیمیں مضبوط ہوئی ہیں۔

پچاسی لاکھ کی آبادی والے آسٹریا میں رواں برس کے دوران پچانوے ہزار تارکین وطن پہنچے ہیں۔ گزشتہ برس آسٹریا میں پناہ کی درخواست دینے والے تارکین وطن کی کل تعداد اٹھائیس ہزار کے قریب رہی تھی۔

شام، عراق اور افغانستان سمیت زیادہ تر مسلمان ممالک سے آنے والے ان پناہ گزینوں کی بڑی تعداد نوجوان مردوں پر مشتمل ہے۔ دائیں بازو کے گروپ اور سیاست دان پہلے ہی ان مہاجرین کو ملکی سالمیت کے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں۔

DW.COM