1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

آسٹریا نے پاکستانیوں سمیت متعدد مہاجرین گرفتار کر لیے

آسٹریا نے اسمگلنگ کے مقدمے میں پاکستان، بنگلہ دیش، شام اور ترکی سے تعلق رکھنے والے 22 مہاجرین کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان افراد کی گرفتاری سلووینیہ کی سرحد پر عمل میں آئی۔

پولیس کی جانب سے سامنے آنے والے ایک بیان کے مطابق ان مہاجرین کی عمریں 16 تا 26 برس ہیں اور ان مہاجرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے پانچ سو تا 15 سو یورو ادا کر کے سربیا سے ایک ٹرک میں چھپ کر آسٹریا میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ خیال رہے کہ بلقان کی ریاستوں کی سرحدوں کی بندش کے بعد اب وہاں انسانوں کے اسمگلر متحرک ہیں اور مہاجرین سے بڑی بڑی رقوم لے کر انہیں غیرقانونی طریقے سے مغربی یورپ تک لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آسٹرین پولیس کا کہنا ہے کہ سلووینیہ سے کہا جائے گا کہ وہ ان تمام غیر قانونی تارکین وطن کو واپس لے۔

مغربی بلقان کا خطہ گزشتہ برس مہاجرین کے مغربی یورپی پہنچنے کے لیے سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا راستہ تھا اور اسی راستے سے لاکھوں مہاجرین آسٹریا، جرمنی اور دیگر مغربی اور شمالی یورپی ممالک پہنچے تھے۔

Österreich Grenzkontrollen im Burgenland

آسٹریا نے سرحدوں پر چیکنگ کا نظام سخت بنایا ہے

یورپی یونین اور ترکی کے درمیان رواں برس مارچ میں طے پانے والے معاہدے کے بعد ایک طرف ترکی سے بحیرہء ایجیئن کے ذریعے یورپی یونین میں داخلے کی کوشش کرنے والے مہاجرین کی تعداد کو کم کیا گیا ہے، جب کہ دوسری جانب بلقان کی ریاستوں نے بھی اپنی اپنی سرزمین کو غیرقانونی تارکین وطن کے لیے بہ طور راستہ استعمال ہونے سے روک رکھا ہے۔ اسی تناظر میں اس صورت حال اور راستے کو انسانوں کے اسمگلر مہاجرین کو غیرقانونی طریقے سے مغربی یورپ پہنچانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، تاہم متعدد ممالک نے اپنی اپنی قومی سرحدوں پر چیکنگ کے نظام کو بھی انتہائی سخت بنا دیا ہے۔