1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آسٹریا میں پھولوں کے ٹرک سے بیالیس مہاجرین برآمد

آسٹرین پولیس نے پھولوں کی مال برداری کے لیے استعمال ہونے والے ایک ٹرک سے، جسے انسانوں کے اسمگلر غیر قانونی تارکین وطن کو مغربی یورپ لانے کے لیے استعمال کر رہے تھے، بیالیس مہاجرین کو برآمد کر کے اپنی حفاظت میں لے لیا ہے۔

بالائی آسٹریا کے علاقے میں آئسٹرزہائم نامی شہر سے اتوار تیرہ ستمبر کو ملنے والی جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق انسانوں کے اسمگلروں نے ان درجنوں مہاجرین کو پھولوں اور چھوٹے پودوں کی مال برداری کے لیے استعمال ہونے والے ایک ٹرک میں چھپا رکھا تھا اور وہ انہیں ہنگری سے اس ٹرک میں سوار کرا کے آسٹریا لائے تھے۔

آسٹرین نیوز ایجنسی اے پی اے نے اعلٰی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ بچا لیے گئے ان مہاجرین میں آٹھ بچے اور پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ اسمگلروں نے کم درجہ حرارت پر پھولوں کو تازہ رکھنے کے لیے ریفریجریشن والے اس ٹرک کے اندر مہاجرین کو پھولوں اور پودوں کے پیچھے چھپا رکھا تھا۔ پولیس کے مطابق جن حالات میں یہ مہاجرین سفر کر رہے تھے، ان کے پیش نظر ان کی صحت قدرے اچھی ہے اور اب انہیں کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

پولیس کو مال برداری کے لیے استعمال ہونے والے اس ٹرک میں اتنے زیادہ مہاجرین کی موجودگی کا پتہ اس وقت چلا جب اسے ٹریفک کی نگرانی کے دوران جرمنی کی سرحد کے قریب آئسٹرزہائم کے نواح میں ایک آسٹرین قومی شاہراہ پر روکا گیا تھا۔

Österreich LKW tote Flüchtlinge

اگست کے مہینے میں آسٹرین پولیس کو اکہتر مہاجرین کی لاشیں اس مال بردار ٹرک سے ملی تھیں، جو گلنا شروع ہو چکی تھیں

پھولوں کے اسی ٹرک میں سوار انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے دو ملزمان کو، جن میں سے ایک اس ٹرک کا ڈرائیور تھا، گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ دونوں ملزمان عراقی شہری ہیں۔ پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ جن بیالیس مہاجرین کو بچا لیا گیا ہے، وہ کن ملکوں کے شہری ہیں۔

آسٹریا میں انسانوں کی اسمگلنگ کے تقریباﹰ اسی طرح کے ایک واقعے میں پولیس کو گزشتہ مہینے ایک شاہراہ کی پارکنگ میں کھڑے کیے گئے ایک ٹرک سے 71 ایسے مہاجرین کی لاشیں ملی تھیں، جو بظاہر دم گھٹنے سے ہلاک ہو گئے تھے۔ کئی دنوں تک پارکنگ میں کھڑے رہنے والے اس ٹرک کا پتہ اس وقت چلا تھا جب اس میں موجود 71 مہاجرین کی لاشیں گلنا سڑنا شروع ہو گئی تھیں۔

DW.COM