1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

آسٹریا میں تارکین وطن کی یومیہ حد مقرر

آسٹریا حکومت نے یورپی یونین کے سربراہ اجلاس سے قبل ہی اعلان کر دیا ہے کہ ان کا ملک روزانہ سیاسی پناہ کی صرف 80 درخواستیں قبول کرے گا۔ علاوہ ازیں آسٹریا سے گزر کر آگے جانے والے پناہ گزینوں کی حد بھی مقرر کر دی گئی ہے۔

آسٹریا کی وزیرداخلہ یوہانا مِکل لائٹنر کا کہنا ہے کہ حکومت نے اپنی سرزمین سے گزر کر جرمنی اور دیگر مغربی یورپی ممالک کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی یومیہ حد مقرر کر دی گئی ہے۔ اب روزانہ 3200 پناہ گزین آسٹریا کے ذریعے دیگر ممالک کا سفر کر سکیں گے۔

مایوس مہاجرین آسٹریا سے اپنے اپنے وطن واپس جانے لگے

یورپی بیت الخلاء، کئی مہاجرین کے لیے معمہ

لائٹنر کا کہنا تھا کہ بتیس سو تارکین وطن کی یہ یومیہ حد ان تارکین وطن پر لاگو ہو گی جو جرمنی اور دیگر پڑوسی ممالک میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔

ویانا حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ آسٹریا میں روزانہ سیاسی پناہ کی 80 درخواستیں قبول کی جائیں گی۔ لائٹنر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان فیصلوں کا اطلاق جمعہ 19 فروری سے ہو جائے گا۔

اس سے قبل آسٹریا نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ سلووانیہ، ہنگری اور اٹلی سے متصل سرحدوں پر تیرہ سرحدی چوکیاں قائم کی جا رہی ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ان ممالک کے ذریعے آسٹریا میں داخل ہونے والے پناہ گزینوں کی نقل و حرکت محدود کرنا ہے۔

آسٹرین وزیر داخلہ کا کہنا تھا، ’’یورپی یونین کے تمام ممالک سے زیادہ دباؤ آسٹریا پر ہے اور اب ہم مزید بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔ ابھی تک اس بحران کا کوئی یورپی حل سامنے نہیں آ سکا ہے اسی لیے ہم اپنی سرحدیں محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔‘‘

نئی حد مقرر کرنے کے بعد بھی آسٹریا میں سالانہ 29 ہزار تارکین وطن سیاسی پناہ کی درخواستیں دے سکیں گے۔ جب کہ گیارہ لاکھ 68 ہزار پناہ گزین آسٹریا سے گزر کر دیگر ممالک جا سکیں گے۔

گزشتہ برس گیارہ لاکھ سے زائد پناہ گزین بلقان ریاستوں اور آسٹریا سے گزر کر جرمنی، ناروے، سویڈن، ہالینڈ اور فرانس جیسے ممالک میں پناہ حاصل کرنے کے لیے پہنچے تھے۔

Infografik Balkanroute und die Alternative Routen Englisch

یورپ کی جانب سفر کرنے والے تارکین وطن کے مرکزی اور متبادل راستے

آسٹریا میں 90 ہزار تارکین وطن نے سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی۔ ویانا حکومت نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ رواں برس کے دوران 37500 تارکین وطن کی سیاسی پناہ کی درخواستیں قبول کی جائیں گی۔

برسلز میں آج شروع ہونے والے یورپی یونین کے سربراہ اجلاس سے قبل آسٹریا نے ہنگری، پولینڈ، سلوواکیہ اور چیک جمہوریہ کے مؤقف کی تائید کی ہے۔

آسٹریائی چانسلر ویرنر فیمان نے بدھ کے روز اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ مہاجرین کی یورپی یونین میں تقسیم کے منصوبے کی مخالفت کریں گے تاہم انہوں نے میرکل کی قیادت میں ترکی کے ساتھ طے پانے والی ڈیل کی حمایت کا اعلان بھی کیا۔

تارکین وطن کی یومیہ حد مقرر کرنے کے حوالے سے فیمان کا کہنا تھا، ’’ہم نے یہ کر دیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ ہم نے ایک ایسی مثال قائم کر دی ہے جس کی تقلید عنقریب جرمنی بھی کرے گا۔‘‘

DW.COM