1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

آسٹریا: مالی امداد ملنے کے باوجود مہاجرین جانے کو تیار نہیں

آسٹریا میں تارکین وطن کی رضاکارانہ وطن واپسی کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک ہزار یورو تک کی مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود اس اسکیم کے تحت اپنے وطنوں کی جانب لوٹنے والے پناہ گزینوں کی تعداد نہایت کم ہے۔

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی ویانا سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اس برس آسٹریا سے مالی معاونت کے ساتھ رضاکارانہ طور پر اپنے وطن لوٹنے والے تارکین وطن کی تعداد پچھلے برس کے مقابلے میں کافی کم ہے۔

پناہ کے لیے مسترد شدہ درخواستوں والے افراد اپنے وطن واپس جائیں، میرکل

آسٹرین وزارت داخلہ کے مطابق آسٹریا میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دینے والے غیر یورپی غیر ملکیوں کی رضاکارانہ وطن واپسی کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے خصوصی پریمیئم اسکیم تین ماہ قبل شروع کی گئی تھی۔

اس اسکیم کے تحت اپنی مرضی سے اپنے وطنوں کی جانب لوٹنے والے تارکین وطن کو ایک ہزار یورو کی مالی امداد بھی فراہم کی جاتی ہے۔ تاہم اس مالی امداد کے باجود اسکیم شروع کیے جانے سے لے کر اب تک محض 427 غیر ملکی اس آفر کے ذریعے آسٹریا سے واپس اپنے وطنوں کی جانب لوٹے ہیں۔ یہ تعداد آسٹرین حکام کی توقع سے نہایت کم رہی ہے۔

دوسری جانب بحیثیت مجموعی بھی آسٹریا سے واپس جانے والے پناہ کے متلاشی افراد کی شرح اس برس کافی کم رہی ہے۔ وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس برس کے پہلے پانچ ماہ کے دوران 1855 تارکین وطن آسٹریا سے واپس اپنے وطنوں کی جانب لوٹے۔ پچھلے برس اسی دورانیے میں آسٹریا سے لوٹ جانے والے غیر ملکیوں کی تعداد اس برس کے مقابلے میں چونسٹھ فیصد زیادہ تھی۔

ویانا حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پریمیئم اسکیم سے استفادہ کرنے والے زیادہ تر غیر ملکیوں کا تعلق عراق، افغانستان اور ایران جیسے ممالک سے ہے۔

اس خصوصی اسکیم میں یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے پناہ کے متلاشی افراد شامل نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں ایسے غیر ملکیوں کو بھی، جو آسٹریا میں کسی بھی قسم کے جرائم میں ملوث ہوں، اس اسکیم میں شامل نہیں کیا جاتا۔

مایوس مہاجرین آسٹریا سے اپنے اپنے وطن واپس جانے لگے

DW.COM