1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آسٹریا، بیٹیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا نیا کیس

آسٹریا میں زنائے محرم کا ایک نیا کیس سامنے آیا ہے، جس میں ایک باپ نے مبینہ طور پر اپنی دو بیٹیوں کو اکتالیس برس تک گھر میں قید رکھا اور انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ملزم نے ان الزامات کو رد کیا ہے۔

default

آسٹریا کی پولیس نے جمعرات کو 80 سالہ ایک ایسے شخص کو گرفتار کر لیا ہے، جس نے مبینہ طور پر 1970 ء سے مارچ 2011ء تک اپنی دو بیٹوں کو گھر میں قید رکھا اور ان کو جنسی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ بتایا گیا ہے کہ مبینہ طور پر اس زیادتی کا شکار بننے والی دونوں بہنوں کا دماغی توازن درست نہیں ہے۔

ایک اعلیٰ پولیس اہلکار Alois Lissl  نے خبر رساں اداروں کو بتایا ہے کہ سینٹ پیٹر ام ہارٹ نامی ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے 80 سالہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس شخص سے آبروریزی، اذیت رسانی اور جنسی جرائم سے متعلق دیگر الزامات کے تحت پوچھ گچھ جاری ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ملزم کو آئندہ اڑتالیس گھنٹوں کے دوران ایک خصوصی جج کے سامنے پیش کیا جائے گا، جو اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ اسے حراست میں رکھا جائے یا چھوڑ دیا جائے۔

پولیس کے بقول زیادتی کا نشانہ بننے والی دونوں بہنوں نے بتایا ہے کہ ان کے باپ نے انہیں اکتالیس برس تک مسلسل جنسی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس وقت ان دونوں کی عمریں 53 اور 45 برس ہیں۔ خواتین نے بتایا کہ ان کا باپ انہیں دھمکاتا تھا کہ اگر انہوں نے مزاحمت کی تو وہ انہیں ہلاک کر دے گا۔ مبینہ طور پر زیادتی کا شکار ہونے والی ان خواتین نے مزید کہا کہ ان کا باپ انہیں آتشی اسلحہ دکھا کرڈراتا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چند برس قبل وفات پا جانے والی ان کی ماں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔

Österreich Justiz Prozeß gegen Josef Fritzl

جوزف فرٹسل عمر قید کاٹ رہا ہے

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان دونوں خواتین کو گھر کے ایک کمرے میں قید رکھا گیا تھا تاہم بعد ازاں بتایا گیا کہ انہیں نقل وحرکت کی بہت ہی محدود آزادی تھی اور انہیں کسی بھی قسم کے سماجی رابطے کی اجازت نہیں تھی۔ پولیس نے ملزم یا اس کی بیٹیوں کے نام جاری نہیں کیے ہیں۔

آسٹریا کے ایک اخبار نے لکھا ہے کہ یہ دونوں بہنیں اس وقت فرار ہوئیں، جب بڑی بہن نے اپنے باپ کو اس وقت دھکا دیا، جب وہ اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ بہنوں نے دیکھا کہ ان کا باپ گرا ہوا ہے اور وہ اٹھ نہیں سکتا تو وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گھر سے بھاگ گئیں۔ ان دونوں نے گھر سے فرار ہونے کے بعد بھی کئی ماہ تک کسی سے کوئی بات نہ کی اور یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا، جب ایک سماجی کارکن کو اس بارے میں معلومات ملیں۔

آسٹریا میں زنائے محرم کے اس نئے کیس نے ایسے ہی ایک پرانے واقعہ کی یاد تازہ کردی ہے، جس میں جوزف فرٹسل نامی ایک شخص نے چوبیس برس تک اپنی بیٹی کو گھر کے تہہ خانے میں قید رکھا اور اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔ اس دوران اس نے اپنی ہی بیٹی کی بطن سے سات بچے پیدا کیے۔ فرٹسل اس وقت عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس