1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

آسٹريليا نے مہاجرين کے معاملے پر وعدہ خلافی کی، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے مطابق آسٹريليا نے اپنی سرحدوں سے باہر قائم حراستی مراکز ميں موجود مہاجرين ميں سے چند کو پناہ فراہم کرنے اور تارکين وطن کے حوالے سے اپنی سخت پاليسی ميں نرمی متعارف کرانے کے معاملے ميں وعدہ خلافی کی ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کميشن برائے مہاجرين يو اين ايچ سی آر کے سربراہ فيليپو گرانڈی نے کينبرا حکومت کے بارے ميں يہ بيان آج پير چوبيس جولائی کو ديا۔ ان کے بقول کينبرا حکومت نے پچھلے سال نومبر ميں يہ  وعدہ کيا تھا کہ پاپوا نيو گنی اور ناؤرو جزائر پر موجود ايسے تارکين وطن کو آسٹريليا ميں پناہ فراہم کی جائے گی، جن کے آسٹريليا ميں روابط ہيں۔ اس کے بدلے يو اين ايچ سی آر نے ان جزائر پر موجود تارکين وطن کو امريکا منتقل کرنے ميں مدد فراہم کرنے کا کہا تھا۔ گرانڈی نے بتايا، ’’ہم نے ايسا کرنے کی حامی اس سمجھوتے پر بھری تھی کہ جن تارکين وطن کے رشتہ دار آسٹريليا ميں مقيم ہيں، انہيں وہاں بالآخر پناہ فراہم کی جائے گی۔ تاہم اقوام متحدہ کے ہائی کميشن برائے مہاجرين کو مطلع کيا گيا ہے کہ آسٹريليا ان تارکين وطن کو بھی اپنے ہاں پناہ دينے پر راضی نہيں۔‘‘

قبل ازيں پچھلے اتوار کو آسٹريلوی اميگريشن ڈیپارٹمنٹ نے يہ کہا تھا کہ ان جزائر پر موجود پناہ گزينوں ميں سے کوئی بھی اگر آسٹريليا پہنچنے کی کوشش کرے گا، تو اسے واپس کر ديا جائے گا۔ آسٹريلوی وزير برائے اميگريشن پيٹر ڈٹن نے کہا، ’’کوليشن حکومت اس موضوع پر موقف واضح ہے، جن لوگوں کو علاقائی پراسسنگ سينٹروں ميں رکھا گيا ہے، وہ آسٹريليا کبھی منتقل نہيں ہو سکيں گے۔‘‘

آسٹريلوی وزير اعظم ميلکم ٹرن بال نے سابق امريکی صدر باراک اوباما کے ساتھ ايک ڈيل کو حتمی شکل دی تھی، جس کے تحت کچھ تارکين وطن کو امريکا ميں بسايا جانا تھا۔ اس ڈيل کو موجودہ امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ’احمقانہ‘ قرار دے چکے ہيں۔ آسٹريليا کے اپنی سرحدوں سے باہر قائم حراستی مراکز ميں اس وقت تقريباً ايک ہزار تارکين وطن موجود ہيں، جن ميں سے کئی کو طبی امداد درکار ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:50

مہاجرين کے ليے سرگرم رضاکاروں کو ’خراج تحسين‘

Audios and videos on the topic