1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

آسٹريا ميں مہاجرين کو ملنے والی مراعات ميں کٹوتی کے اثرات

آسٹريا کے نو ميں سے تين صوبوں ميں مہاجرين کو ملنے والی مراعات اور سہوليات ميں کمی کر دی گئی ہے، جس کے بعد کئی تارکين وطن اب يا تو ديگر شہروں ميں منتقل ہو رہے ہيں يا پھر اپنے لیے آمدنی کے متبادل ذرائع کی تلاش ميں ہيں۔

چونتيس سالہ احمد علی خانہ جنگی کے شکار ملک شام سے فرار ہو کر دو برس قبل آسٹريا پہنچا تھا۔ اپنے آبائی ملک ميں ايک استاد کی حيثيت سے ملازمت کرنے والے علی نے چيک جمہوريہ کی سرحد کے پاس آسٹريا کے ايک پہاڑی علاقے ميں نئی زندگی شروع کی تھی۔ تاہم علی جس علاقے ميں رہائش پذير تھا، وہاں کی صوبائی حکومت نے اس سال جنوری ميں نئے آنے والے تارکين وطن کے ليے مراعات ميں کمی کا اعلان کر ديا۔ تب علی تنہا نہيں تھا۔ اس کے ساتھ اس کی حاملہ بيوی بھی تھی اور اس پيش رفت کے بعد ان کی وہاں گزر بسر مشکل ہو گئی تھی۔ نتيجہ یہ نکلا کہ علی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ جولائی ميں ملکی دارالحکومت ويانا منتقل ہو گيا، جہاں اسے وہی سرکاری سہوليات ميسر آئیں، جو اسے زیریں آسٹريا ميں کٹوتی سے پہلے تک ملا کرتی تھیں۔

ويانا حکومت نے سن 2015 ميں مجموعی آبادی کے ايک فيصد کے برابر تارکين وطن کو ملک میں سياسی پناہ دی تھی۔ تاہم پورے يورپ اور آسٹريا ميں بڑی تيزی کے ساتھ مہاجرین مخالف جذبات اور سکيورٹی کے حوالے سے خدشات بڑھتے چلے گئے، جس کے نتيجے ميں پناہ گزينوں کے حوالے سے وہاں رائے عامہ ميں بھی سختی آ گئی تھی۔ اسی دوران انتہائی دائيں بازو کی سياسی جماعت فريڈم پارٹی کی عوامی حمايت ميں بھی نماياں اضافہ ديکھا گيا، یہاں تک کہ اس پارٹی کا اميدوار وہاں گزشتہ ملکی صدارتی انتخابات ميں کاميابی کے بہت قريب تھا۔ آسٹريا ميں اب پندرہ اکتوبر کو پارليمانی اليکشن ہونے والے ہيں اور اميگريشن ابھی تک ايک اہم سياسی موضوع ہے۔

شامی تارک وطن احمد علی اپنے فيصلے کے بارے ميں بتاتا ہے، ’’ہم ميں سے کئی لوگ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سہوليات ميں کمی کے بارے ميں خط موصول ہونے کے بعد ديگر شہروں ميں منتقل ہو گئے۔‘‘ علی کے بقول اس کے لیے اور ديگر تارکين وطن کے ليے شروع ميں يہ بات ناقابل فہم تھی تاہم بعد ازاں جب ان کے بينک اکاؤنٹس ميں کم رقم آئی، تو انہيں يقين ہو گیا کہ واقعی ايسا ہو چکا ہے۔ علی نے مزید بتايا کہ ابھی اسے اتنی اچھی طرح جرمن زبان نہيں آتی کہ اسے کوئی ملازمت مل سکے۔

آسٹريا کے نو ميں سے جو تين وفاقی صوبے مہاجرين کو دی جانے والی مراعات ميں کمی کا اعلان کر چکے ہیں، ان ميں زیریں آسٹريا، بالائی آسٹريا اور بُرگن لینڈ شامل ہيں۔ قدامت پسندوں کی آسٹرین پيپلز پارٹی کے رہنما اور ملکی وزير خارجہ سباستيان کُرس ديگر صوبوں ميں بھی يہی پاليسی چاہتے ہيں تاہم سوشل ڈيموکريٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے آسٹرين چانسلر کرسٹيان کَیرن اس مطالبے کے خلاف ہيں۔

آسٹريا کے ان تين وفاقی صوبوں ميں اب نئے آنے والے تارکين وطن کو وہاں سياسی پناہ کے حصول کے بعد بھی ماہانہ صرف 570 يورو فی کس فراہم کيے جاتے ہيں جبکہ کسی خاندان کو ماہانہ گزر بسر اور مکان کے کرائے کے ليے زیادہ سے زیادہ پندرہ سو يورو فراہم کيے جاتے ہیں۔ آسٹريا ميں کسی بھی شخص کو اپنی مناسب حد تک گزر بسر کے ليے ماہانہ قريب بارہ سو يورو درکار ہوتے ہيں اور اس سے کم آمدنی والے افراد کو غربت کی لکیر سے نيچے تصور کیا جاتا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:59

جرمنی ميں جسم فروشی پر مجبور مرد پناہ گزين

Audios and videos on the topic