1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آسام کے باغی مذاکرات پر آمادہ

بھارتی ریاست آسام کے ایک اہم علٰیحدگی پسند گروپ نے حکومت کےساتھ امن مذاکرات کی حامی بھر لی ہے۔ یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام نامی یہ باغی گروہ گزشتہ تیس برس سے سرگرم عمل تھا۔

default

الفا کے ترجمان میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق کالعدم یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام ULFA کے ترجمان ساشا چوہدری نے ریاستی دارالحکومت گوہاٹی میں اعلان کیا کہ حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے تیار ہیں،’ الفا کی مرکزی کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ بھارتی حکومت کے ساتھ غیر مشروط طور پر امن مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ یہ مذاکرات دس فروری کو شروع کیے جائیں گے۔‘

یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام کی طرف سے یہ تازہ ترین بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب ایک ماہ قبل ہی اس ممنوعہ جماعت کے چیئر مین سمیت کئی دیگر ممبران کو رہا کیا گیا تھا۔ ساشا چوہدری نے امن مذاکرات کے عمل کے لئے حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا،’ ہم اس بات کی امید کرتے ہیں کہ طویل عرصے سے جاری اس تنازعے کے حل کے لیے باہمی طور پر کوئی قابل قبول حل تلاش کیا جائے گا۔‘

ULFA-Führer verhaftet

الفا کے دو ممبران رانجن چوہدری اور پردیپ ماراک پولیس کی تحویل میں

اطلاعات کے مطابق یہ امن مذاکرات بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں منعقد کیے جائیں گے۔ حکومت کی طرف سے ان مذاکرات کی سربراہی ہوم منسٹر پی چدم برم یا ہوم سیکریٹری گی کے پالائی کریں گے۔

الفا کے تمام تر اہم ممبران ضمانت پر رہا کر دیے گئے ہیں۔ امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے بھارتی حکومت نے خصوصی طور پر انہیں رہا کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق الفا کے ایک روپوش رہنما پاریش باروان مذاکرات کے خلاف ہیں تاہم چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ وہ بھی امن عمل کا حصہ بن جائیں گے،’ ہم اپنے کمانڈر ان چیف کے ساتھ رابطے میں ہیں، اور ہمیں یقین ہے کہ وہ ہمارے اس فیصلے کی حمایت کریں گے۔‘ باغی تنظیم کے ترجمان نے مزید کہا کہ پاریش مرکزی کمیٹی کا فیصلہ تسلیم کرنے کے پابند ہیں۔

آسام میں یہ علٰیحدگی پسند گروہ سن 1979ء سے آزاد ریاست کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اس گروہ کی کارراوئیوں کے نتیجے میں گزشتہ دس برس کے دوران کم ازکم پندرہ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM