1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آسام میں ریاستی انتخابات کے لیے پولنگ

بھارتی ریاست آسام میں علاقائی سطح پر انتخابات کے لیے ووٹ آج ڈالے جا رہے ہیں۔ اس عمل کو حکمران جماعت کانگریس کو کرپشن اسکینڈلز کے بعد درپیش سب سے بڑا امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔

default

آسام میں 126میں سے 62 حلقوں میں ووٹ آج ڈالے جا رہے ہیں، جبکہ باقی ماندہ حلقوں میں پولنگ گیارہ اپریل کو ہوگی۔ پیر کے انتخابات کے لیے 11 ہزار پولنگ اسٹیشنوں کی سکیورٹی کے لیے 45 ہزار اہلکار تعینات ہیں۔

پیر کو منعقد ہونے والے انتخابی عمل کے دوران باغیوں کی جانب سے حملوں کا بھی خدشہ ہے، جو وہاں نئی دہلی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ آسام میں گزشتہ کئی دہائیوں سے علیٰحدگی پسند تحریک چل رہی ہے۔ باغیوں میں سے بعض حکومت کے ساتھ امن مذاکرات میں بھی شریک ہیں جبکہ دیگر باغی ان انتخابات سے قبل تک سکیورٹی فورسز اور کانگریس رہنماؤں میں حملے کرتے رہے ہیں۔

حالیہ کرپشن اسکینڈلز نے کانگریس پارٹی کی ساکھ کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وفاق کی اتحادی حکومت میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لئے حکمران جماعت کو ان علاقائی انتخابات میں بہتر کاکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

کانگریس پارٹی کو بدعنوانی کے اسکینڈلز کے ساتھ ساتھ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کا بھی سامنا ہے۔ ان وجوہات کے باعث عوامی سطح پر اس کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ اسکینڈلز میں ٹیلی کام سیکٹر میں بڑے پیمانے پر ہیرپھیر کے الزامات بھی شامل ہیں۔

Indien Bombenserie in Assam

آسام میں گزشتہ کئی دہائیوں سے باغی حکومت کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں

اس کے باوجود کانگریس پارٹی کو آسام کے انتخابات میں جیت کے لیے فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ کمزور اپوزیشن ہے۔ آسام میں موجود تجزیہ کار حیدر حسین نے خبررساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’اس مرتبہ کانگریس بہت آسانی سے جیت جائے گی۔‘

بھارتی پارلیمنٹ کے 545 رکنی ایوانِ زیریں میں 20 فیصد سے زائد نشستیں رکھنی والی پانچ ریاستوں میں علاقائی انتخابات ہو رہے ہیں۔ یہ سلسلہ مئی کے وسط تک جاری رہے گا۔

آسام کے ساتھ ساتھ مغربی بنگال، کیرالہ، پونڈی چیری اور تامل ناڈو میں بھی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ان تمام ریاستوں کے انتخابات کے نتائج کا اعلان تیرہ مئی کو کیا جائے گا۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس