1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آزاد کوسووو کے پہلے انتخابات، تھاچی جیت کے قریب

آزاد کوسووومیں منعقد کئے گئے پہلے پارلیمانی انتخابات کے غیرحتمی نتائج کے مطابق وزیراعظم ہاشم تھاچی کو اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔ دریں اثناء رات گئے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے جیت اعلان کردیا ہے۔

default

وزیراعظم ہاشم تھاچی

ڈیموکریٹک پارٹی آف کسووPDK کے سربراہ ہاشم تھاچی نے ایگزٹ پولز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’ہم جیت گئے ہیں۔‘ گانی بونی پولنگ ایجنسی کے مطابق ہاشم تھاچی کی سیاسی جماعت پی ڈی کے کو اکتیس فیصد ووٹ ملے ہیں جبکہ مرکزی اپوزیشن کے اتحاد کو پچیس فیصد۔ اسی طرح غیر سرکاری جماعتوں کے ایک گروپ نے کہا ہے کہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق تھاچی کو 34 فیصد جبکہ ان کی اپوزیشن کو 25 فیصد ووٹ ڈالے گئے ہیں۔

حتمی نتائج پیر کی شام تک متوقع ہیں تاہم کوسوووکے پارلیمانی انتخابات کے ایگزٹ پولز کے مطابق اس بات کے امکانات روشن ہو گئے ہیں کہ ہاشم تھاچی دیگر چھوٹی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ الحاق کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہو جائیں گے۔ تھاچی نے ان انتخابات کو اپنی پالسیوں کے لئے ایک ریفرنڈم قرار دیا تھا۔

Kosovo Wahlen Dezember Wahl 2010

عیسٰی مصطفیٰ اپنا ووٹ ڈالتے ہوئے

ان انتخابات میں تھاچی کے اہم مخالف پرسٹینا کے میئرعیسیٰ مصطفٰی تھے۔ ڈیموکریٹک لیگ آف کسوو LDK کے رہنما مصطفٰی کو ایک اہم امیدوار تصور کیا جا رہا تھا لیکن عوامی رائے کے مطابق ملک کے پہلے پارلیمانی انتخابات میں انہیں کوئی خاص کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ مصطفٰی نے ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنے کا نعرہ لگایا تھا۔ انہوں نے اپنی آخری انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا، ’ہم ایک ایسی حکومت قائم کریں گے، جو بدعنوانی ختم کردے گی اور ملک کا نام روشن کرے گی۔‘

ایک حالیہ سروے کے مطابق کوسووو کے 73 فیصد عوام کا خیال ہے کہ وزیر اعظم تھاچی کے دوراقتدارمیں بدعنوانی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران کوسووو میں بےروزگاری کی شرح پچاس فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ سابق گوریلا رہنما تھاچی سربیا سے یک طرفہ اعلان آزادی کے بعد سے کوسوووکے وزیراعظم ہیں۔ کوسووو نے 17 فروری سن 2008ء کوسربیا سے علیحٰدگی کا باقاعدہ اعلان کیا تھا تاہم سربیا ابھی تک کسووکے آزاد تشخص کو تسلیم نہیں کرتا۔

عیسیٰ مصطفٰی اورہاشم تھاچی دونوں ہی یورپی یونین اورمغربی دفاعی اتحاد نیٹو میں شمولیت کے خواہاں ہیں تاہم دونوں رہنماؤں کے پاس اس حوالے سے کوئی ٹھوس فریم ورک نہیں ہے۔ سن 2007ء کے انتخابات میں بھی ہاشم تھاچی کی سیاسی جماعت نے 34.3 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے جبکہ ان کی اپوزیشن کو 22.6 فیصد ووٹ ہی ملے تھے۔

رپورٹ:عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM