1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ، کچھ فلسطینیوں کے لیے بھی متنازعہ

فلسطینی انتظامیہ اقوام متحدہ کے ستمبر میں ہونے والے اجلاس میں ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے قیام کی درخواست دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ کوششیں کہاں تک کامیباب ہوں گی، اس بارے میں ابھی یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

default

مشرقی وسطیٰ امن مذاکرات گزشتہ کئی برسوں سے تعطّل کا شکار ہیں۔ فلسطینی اپنی ایک الگ ریاست کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ اسرائیل چاہتے ہیں کہ اسے تسلیم کیا جائے۔ دس روز قبل یروشلم میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے حق میں مظاہرہ بھی کیا گیا۔ مظاہرین میں عرب اسرائیلی شہری بھی بڑی تعداد میں شریک تھے۔ ان مظاہرین نے اسرائیل اور فلسطین کے پرچم لہراتے ہوئےشہر کی سڑکوں اور گلیوں میں مارچ کیا۔ ایک آزاد ریاست کے فلسطینی مطالبے کی آواز یروشلم میں کسی نے بھی نہیں سنی ہو گی۔ کیونکہ1967ء کا سرحدی معاہدہ طے پانے کے بعد دو ریاستی حل کے موضوع کو خیر باد کہا جا چکا ہے۔

Mahmoud Abbas

ہم پردروازے بند کر دیے گئے ہیں، اقوام متحدہ سے رجوع ضرور کریں گے، محمود عباس

اسرائیلی نائب وزیر خارجہ ڈانی آیالون نے ایک پروپیگنڈا ویڈیو میں کہا کہ فلسطینی علاقے مقبوضہ نہیں ہیں اور غرب اردن پر فلسطینوں کا کوئی قانونی حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے غرب اردن کا علاقہ کس سے حاصل کیا تھا؟ فلسطینیوں سے؟ نہیں۔ ’’1967ء میں فلسطین نام کی کوئی ریاست موجود ہی نہیں تھی۔ غرب اردن میں اسرائیل کی موجودگی خود اپنے دفاع میں لڑی جانے والی ایک جنگ کا نتیجہ ہے۔‘‘

فلسطینی اس موقف کو مسترد کرتے ہیں۔ ساتھ ہی فلسطینی انتظامیہ چاہتی ہے کہ اقوام متحدہ ایک خود مختار ریاست کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں ان کی مدد کرے۔ گزشتہ دنوں فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے ایک مرتبہ پھر اپنے اس منصوبے کی تائید کی۔’’ ہماری پہلی ترجیح امن مذاکرات میں شامل ہونا ہے، ہماری دوسری ترجیح بھی امن مذاکرات ہی ہیں اور تیسری بھی ، لیکن جب ہمارے لیے دروازے بند کر دیے جائیں تو پھر ہمیں اپنا حق حاصل کرنے کے لیے اقوام متحدہ سے رجوع کرنا پڑے گا۔‘‘

بہت سے فلسطینی اس منصوبے کو تنقیدی نگاہ سے بھی دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آیا عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کے بعد انہیں مزید حقوق بھی حاصل ہو سکیں گے، یہ بات غیر واضح ہے۔ انٹرنیٹ پرالیکٹرانک انتفاضہ نامی پیش رفت کے بانی علی ابونیمہ کے بقول اقوام متحدہ میں ایک الگ ریاست کا مطالبہ ایک نمائشی اقدام سے زیادہ کچھ نہیں ہو گا۔

Danny Ayalon und Ahmet Oguz Celikkol

فلسطینی علاقے مقبوضہ نہیں ہیں، ڈانی آیالون

انہوں نے کہا کہ کچھ بھی تبدیل نہیں ہوگا۔ ایک بھی اسرائیلی فوجی مقبوضہ علاقوں سے باہر نہیں جائے گا۔ امتیازی سلوک جاری رہے گا، حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

علی ابونیمہ کے بقول مشرق وسطٰی تنازعے میں عالمی برادری بھی قصور وار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 20 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن مذاکراتی عمل مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ آج تک عالمی برداری اسرائیل سے یہ بھی مطالبہ نہیں کر سکی ہے کہ فلسطینیوں کو شہری حقوق دیے جائیں۔

رپورٹ: بیٹینا مارکس/ ترجمہ: عدنان اسحاق

ادارت : امجد علی

DW.COM