1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’آزاد بلوچستان‘ کے پوسٹرز، پاکستان کا سوئس حکومت سے احتجاج

پاکستانی دفتر خارجہ نے سوئٹزرلینڈ میں پاکستان مخالف پوسٹرز لگائے جانے پر اسلام آباد میں تعینات سوئس سفیر تھوماس کولی کو طلب کر کے باقاعدہ احتجاج کیا ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، ’’پاکستان نے سوئٹزرلینڈ میں ایک ’دہشت گرد‘ تنظیم کو پاکستانی حکومت کے خلاف مہم چلانے کی اجازت دیے جانے پر سوئس حکومت سے شدید الفاظ میں احتجاج کیا ہے۔‘‘

قبل ازیں سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے ایسی کئی تصاویر شائع کی تھیں، جن میں دیکھا جا سکتا تھا کہ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا کی ایک شاہراہ پر ’فری بلوچستان‘ کے پوسٹرز لگے ہوئے ہیں اور ان کے علاوہ ایک بس پر بھی ’فری بلوچستان‘ کے بہت بڑے بڑے الفاظ لکھے ہوئے تھے۔

ٹوئٹ

اس طرح کی سیاسی تشہیری مہم کے بارے میں، جو ممکنہ طور پر کسی بھی دو ممالک کے باہمی تعلقات پر اثر انداز ہو سکتی ہو، بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟ اس بارے میں بین الاقوامی قانون کے پاکستانی ماہر احمر بلال صوفی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’پاکستان قانونی طور پر سوئس حکام سے احتجاج کرسکتا ہے۔ اس احتجاج سے پاکستان نشاندہی کر رہا ہے کہ یہ پوسٹرز پاکستان کے اس قومی قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، جس کے تحت ریاست کے خلاف بغاوت نہیں کی جا سکتی۔ اس کے علاوہ پاکستان یہ مطالبہ بھی کر سکتا ہے کہ اسے بتایا جائے کہ اس مہم کے پیچھے کون سے عناصر ہیں۔‘‘

احمر بلال صوفی نے مزید کہا، ’’جب کوئی شخص متعلقہ سوئس حکام سے کسی اشتہار کو شائع کرنے کی اجازت مانگتا ہے، تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس اشتہار سے کسی کی دل آزاری تو نہیں ہو رہی۔‘‘ احمر صوفی نے یہ بھی کہا کہ  جنیوا بین الاقوامی سطح پر ایک اہم شہر ہے اور وہاں کسی بھی ایسی مہم کی تشہیر نہیں کی جانا چاہیے، جس سے کسی ملک کی تضحیک ہوتی ہو یا جس کے ذریعے وہاں بغاوت کو ہوا دیے جانے کا خدشہ ہو۔

پاکستان کے دوسرے سب سے بڑے شہر لاہور میں یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز سے منسلک بین الاقوامی امور کے پروفیسر سکندر شاہ نے اس بارے میں ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’بین الاقوامی سطح پر مختلف ممالک کے مابین ایسے کئی معاہدے ہوتے ہیں، جن کے تحت آپ کو دوسری ریاستوں کی جغرافیائی وحدت اور خود مختاری کی عزت کرنا ہوتی ہے۔‘‘

بلوچستان:سلامتی کے ادارے دہشت گردی کے نشانے پر کیوں ہیں؟

بلوچستان: ایرانی مارٹر شیل سے ایک پاکستانی شہری ہلاک

بھارت سے مالی اور دیگر مدد کو خوش آمدید کہیں گے، بلوچ رہنما

سکندر شاہ کے مطابق نفرت انگیز مواد کی تشہیر کے حوالے سے یورپ میں تو قوانین پہلے ہی بہت سخت ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر بھی کئی ممالک قانوناﹰ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ان کے ہاں سے کسی بھی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں کوئی مداخلت نہ کی جائے۔

سکندر شاہ نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی کی مسلح تحریک چلانے والی بلوچستان لبریشن آرمی یا بی ایل اے کو پاکستان اور برطانیہ نے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ لہٰذا پاکستان اسی پہلو سے سوئس حکام کے ساتھ اس مہم کے خلاف آواز اٹھائے گا۔

اس موضوع پر اسلام آباد میں پاکستانی دفتر خارجہ کے بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ پاکستان کا ایک اہم یورپی پارٹنر ملک ہے، جس کی حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے ہاں پاکستان کے خلاف چلائی جانے والی اس مہم کے ذمہ دار عناصر کے خلاف کاروائی کرے۔

پاکستان میں بی ایل اے جیسی قوم پسند بلوچوں کی عسکریت پسند تنظیموں پر تو پابندی عائد ہے، جہاں ان تنظیموں کے ارکان وقفے وقفے سے زیادہ تر اسی پاکستانی صوبے میں مسلح کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ تاہم پاکستان سے باہر یہی بلوچ قوم پسند عناصر مختلف ممالک میں رہتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنی فکری تشہیر کرتے ہیں اور کبھی کبھی ان کی طرف سے چند مغربی شہروں میں مظاہرے بھی کیے جاتے ہیں۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات