1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آزادی کے جشن کے بعد گاندھی وادی کی گرفتاری

بھارتی پولیس نے سماجی کارکن انا ہزارے کو بھوک ہڑتالی کیمپ لگانے سے قبل ہی حراست میں لے لیا ہے۔ نئی دہلی پولیس نے اس گاندھی وادی کو صبح سویرے سپریم کورٹ کے وکیل پرشانت بھوشن کے گھر سے تحویل میں لیا۔

default

74 سالہ ہزارے دارالحکومت کے وسط میں جے پرکاش نرائن پارک میں تادم مرگ بھوک ہڑتال کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق انا ہزارے ملک میں بدعنوانی کے خلاف اپنی اس پر امن کوشش کو آزادی کی ’دوسری جدوجہد‘ کا نام دے کر تحریک جاری رکھنے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق انا ہزارے کے ساتھیوں کرن بیدی اور اروند کیجری وال سمیت بعض دیگر افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس نئی دہلی پولیس کے اہلکاروں نے یہ کارروائی کی۔

Anna Hazare

انا ہزارے اپریل کی بھوک ہڑتال کے موقع پر

انا ہزارے نے اپریل میں 98 گھنٹوں تک بھوک ہڑتال کی تھی۔ اس کے دباؤ میں آکر نئی دہلی حکومت نے مجبور ہوکر ان سے انسداد بدعنوانی کے نئے قانون کا مسودہ تیار کرنے میں مدد کا کہا تھا۔ ’لوک پال‘ کہلانے والے اس مجوزہ بل کو ملک گیر پزیرائی حاصل ہوئی، جس کے توسط سے ملک میں نئے محتسب کی نشست قائم کی جائے گی۔

انا ہزارے کا البتہ موقف ہے کہ وزیر اعظم من موہن سنگھ سمیت چوٹی کی قیادت کا بھی احتساب کیا جائے۔ حکومت کی تاہم خواہش ہے کہ وزیر اعظم اور اعلیٰ عدلیہ کو اس بل کی گرفت سے باہر رکھا جائے۔ انا ہزارے نے ایک بار پھر بھوک ہڑتال کا اعلان اسی لیے کیا کہ حکومت نے ان کی تجاویز پر عمل نہ کرتے ہوئے احتساب کی تاثیر کو زائل کر دیا ہے۔

Indien Unabhängigkeitstag

بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے یوم آزادی کے موقع پر اپنے خطاب میں بدعنوانی کے خاتمے کی ضرورت پر خاصا زور دیا

پولیس کی جانب سے ہزارے کی گرفتاری کی دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ نرائن پارک محض تین دن کے لیے دستیاب ہے جبکہ انا ہزارے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ غیر محدود مدت تک احتجاج کا ارادہ رکھتے ہیں۔

امریکہ نے بھارت کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن کو امید ہے کہ بھارت انسداد بدعنوانی سے متعلق مظاہروں سے نمٹنے کے دوران مناسب جمہوری برداشت کا مظاہرہ کرے گا۔ بھارت نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس کے آئین میں اظہار رائے کی آزادی ہے اور مجوزہ بل کے مخالفین پارلیمان میں اپنی رائے کا اظہار کرسکتے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: حماد کیانی

DW.COM

ویب لنکس