1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آزادی صحافت کا عالمی دن: فکری اختلاف کے لیے احترام کی ضرورت

امریکا اور پولینڈ جیسی جمہوریتوں میں بھی صحافی مسلسل بڑھتے ہوئے دباؤ کا شکار ہیں۔ اس کی ایک وجہ عوامی مکالمت کا محدود ہو جانا بھی ہے، جس میں میڈیا بھی حصے دار ہے۔ آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر ڈی ڈبلیو کا تبصرہ:

آج تین مئی کو منائے جانے والے آزادی صحافت کے عالمی دن کی مناسبت سے ڈوئچے ویلے کی چیف ایڈیٹر اِینس پوہل اپنے تبصرے میں لکھتی ہیں کہ اس وقت پوری دنیا میں زیادہ سے زیادہ صحافی مسلسل بڑھتے ہوئے دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کے کام میں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں، انہیں دھمکیاں دی جاتی ہیں اور گرفتار حتیٰ کہ انہیں ہلاک بھی کر دیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں جملہ بین الاقوامی کوششوں کے باوجود مصر اور برونڈی جیسے ملکوں میں صحافیوں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

ترکی میں گزشتہ برس موسم گرما میں فوجی بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد سے صحافیوں اور میڈیا کے خلاف جبر کی ایک ایسی لہر دیکھنے میں آ رہی ہے، جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی اور جس دوران ترک نژاد جرمن صحافی ڈینیز یُوچَیل سمیت ڈیڑھ سو سے زائد صحافیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

جنگوں اور بحرانوں کے شکار شام، عراق، یمن اور افغانستان جیسے ممالک میں بھی صحافیوں کو ابھی تک ہر طرف سے جان لیوا خطرات کا سامنا ہے۔

اس تناظر میں بیک وقت متعدد زبانوں میں قارئین، سامعین او ناظرین تک معلومات پہنچانے والے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کا کردار اور بھی اہم ہو جاتا ہے تاکہ پابندیوں اور سنسر کی زد میں آئے ہوئے معاشروں تک غیر جانبدارانہ معلومات کی ترسیل رکنے نہ پائے۔

Ines Pohl (DW/P. Böll)

ڈوئچے ویلے کی چیف ایڈیٹر اِینس پوہل

اس سلسلے میں ایک خطرناک پیش رفت، جس کی صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز نے بھی اپنی تازہ ترین رپورٹ میں تصدیق کی ہے، یہ ہے کہ مستحکم جمہوریتوں میں بھی اب صحافی اور میڈیا بہت زیادہ دباؤ کا شکار ہو چکے ہیں۔

امریکا اور پولینڈ جیسے ملکوں میں بھی سیاستدان میڈیا دشمن بیان بازی اپنا چکے ہیں اور خفیہ اداروں کی طرف سے میڈیا کی نگرانی کے عمل کو مزید وسعت دیتے ہوئے ایسے قوانین نافذ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جن کا مقصد میڈیا کی آزادانہ کارکردگی کو محدود کرنا ہے۔

اسی تلخ حقیقت کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی مسلمہ اور قابل اعتماد میڈیا ہاؤسز کی طرف سے رپورٹنگ کو ناقابل اعتماد قرار دینے کی کوششوں میں سب سے آگے ہیں اور خود ان کی طرف سے کسی بھی طرح کے فلٹر یا چیکنگ کے نظام کے بغیر صبح شام کی جانے والی ٹویٹس کے ذریعے بہت سی معلومات ٹوئٹر پر ہر روز کروڑوں انسانوں تک پہنچ رہی ہیں۔ ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ جو کچھ ٹرمپ کہتے ہیں، اس میں اکثر سراسر جھوٹ ہوتا ہے۔

صرف امریکا اور پولینڈ ہی نہیں بلکہ فرانس، ہالینڈ اور جرمنی جیسے معاشروں میں بھی پیشہ ورانہ بنیادوں پر کام کرنے والے ذرائع ابلاغ کی عوام میں ساکھ ماضی کے مقابلے میں خراب ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیا کا اپنے قابل اعتماد ہونے سے محروم ہوتے جانا اس وقت آزادی صحافت کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔