1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آزادی صحافت کا عالمی دن آج ہے

آزادی صحافت کا بین الاقوامی دن آج منایا جا رہا ہے اور بین الاقوامی تنظیم Reporters Without Borders نے پریس کی آزادی کے چالیس سب سے بڑے دشمنوں کی ایک فہرست بھی جاری کی ہے۔

default

صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے آج کے دن کی مناسبت سے پریس فریڈم کی نفی کرنے والے یا اسے انتہائی حد تک نقصان پہنچانے والے غیر جانبدار پریس کے چالیس سب سے بڑے دشمنوں کی جو فہرست جاری کی ہے، اس میں سیاستدان بھی شامل ہیں اور مذہبی تنظیموں اور ملیشیا گروپوں کے رہنما بھی۔

Russland China Hu Jintao bei Wladimir Putin in Moskau Vertrag

روسی وزیر اعظم ولادیمیرپوٹن اور چینی صدر ہوجنتاؤ کو آزادی صحافت کے دشمن قرار دیا گیا ہے

پیرس میں قائم اس تنظیم کی، جسے فرانسیسی زبان میں اس کے نام کی وجہ سے مختصرا RSF بھی کہا جاتا ہے، ’پریس مخالف‘ فہرست میں جو نام شامل کئے گئے ہیں، انہیں اس ادارے نے ’’طاقتور، خطرناک، پر تشدد اور قانون سے بالاتر‘‘ قرار دیا ہے، جو ’’صحافیوں کو اغواء کرواتے ہیں، ان پر تشدد کرواتے ہیں، انہیں قتل بھی کراتے ہیں اور اپنی طاقت کے بل پر سنسرشپ کا ہتھیار بھی استعمال کرتے ہیں۔‘‘

اس فہرست میں 17 ملکوں کے صدور اور سربراہان حکومت کے نام بھی شامل کئے گئے ہیں۔ ان میں سے نمایاں نام چینی صدر ہوجن تاؤ، ایرانی صدر محمود احمدی نژاد، روانڈا کے صدر پال کاگامے، کیوبا کے راؤل کاسترو اور روسی وزیر اعظم ولادیمیر پوٹن کے ہیں۔

اس فہرست میں اس سالRSF نے جو ایک نام پہلی مرتبہ شامل کیا ہے، وہ طالبان کے روپوش رہنما ملا عمر کا ہے۔ اس کے علاوہ اسی لسٹ میں پہلی مرتبہ روس کی علیحدگی پسند جمہوریہ چیچنیا کے ماسکو نواز صدر رمضان قدیروف کا نام بھی شامل ہے۔

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق سال 2010 میں اب تک دنیا کے مختلف ملکوں میں نو صحافیوں کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران ہلاک کیا جا چکا ہے جبکہ میڈیا سے تعلق رکھنے والی 30 شخصیات کو قید کیا جا چکا ہے۔

Global Media Forum Teilnehmer Erik Bettermann

ڈوئچے ویلے کے ڈائریکٹر جنرل ایرک بیٹرمین

آج منائے جانے والے انٹرنیشنل پریس فریڈم ڈے کے موقع پر جرمنی میں ذرائع ابلاغ کی نمائندہ متعدد تنظیموں نے مشترکہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ عالمی سطح پر میڈیا کو دبانے اور پریس کی آزادی کو محدود رکھنے کی کوششوں کا خاتمہ ہونا چاہئے، اور خاص طور پر چین اور ایرن میں ذرائع ابلاغ کو ان کی آزادی کے حوالے سے ان کے جملہ حقوق دیے جائیں۔ جرمن صحافیوں کی فیڈریشن DJV نے ایران اور چین کو آزادی صحافت کی نفی کرنے والی دو سب سے بڑی ریاستیں قرار دیا ہے۔

اسی سلسلے میں ڈوئچے ویلے کے ڈائریکٹر جنرل ایرک بیٹرمین نے کہا کہ تہران اور بیجنگ میں ملکی حکومتیں غیر ملکی نشریاتی اداروں کے اپنی اپنی قومی زبانوں میں پروگراموں میں بھی خلل ڈالتی ہیں اور آزادی رائے اور آزادی صحافت کا اس طرح شدید طور پر محدود کیا جانا کسی بھی حوالے سے قابل قبول نہیں ہے۔

جرمنی میں اخبارات شائع کرنے والے اداروں کی ملکی تنظیم کے صدرہیلموٹ ہائینن کے مطابق ایران اور چین کی حکومتیں اپنی اس کوشش میں کامیاب رہی ہیں کہ اپنے اپنے ملکوں کے عوام کو بیرون ملک سے حاصل ہونے والی معلومات کی ترسیل کو زیادہ سے زیادہ حد تک روک دیں۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: ندیم گِل

DW.COM