1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

آزادیء صحافت کے لئے ضیاء دور بدترین تھا

ڈوئچے ویلے کے لئے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں پاکستان کے ممتاز صحافی اور دانشور حسین نقی نے بتایا کہ صحافیوں کے لئے سب سے زیادہ سخت دور ضیاء الحق کا رہا۔ سب سے زیادہ اخبارات اُنہی کے دور میں بند ہوئے۔

default

ضیاء الحق کا دور اخبارات اور صحافیوں کے لئے بے شمار پابندیوں اور مصائب کا دور تھا

شعبہء اردو کے ہفتہ وار ادبی اور ثقافتی پروگرام کہکشاں کے لئے اپنے انٹرویو میں حسین نقی نے، جو حقوقِ انسانی کمیشن آف پاکستان کے ساتھ بھی وابستہ ہیں، کہا کہ ضیاء ہی کے دَور میں صحافیوں کے خلاف سب سے زیادہ مقدمات بھی قائم ہوئے۔ اِن مقدمات کا سامنا کرنے والوں میں مظہر علی خان اور عزیز ضیاء کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی شامل تھے۔ تب کراچی اور پشاور سے لے کر کوئٹہ تک سینکڑوں اخبارات اور رسائل کی اشاعت پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اِس کے نتیجے میں متعدد صحافی بے روزگار بھی ہوئے اور اُن کی طرف سے احتجاج بھی کیا گیا۔ سب سے زیادہ خراب سزا بھی اُسی زمانے میں دی گئی۔ تین جرنلسٹوں کو صحافیوں کے حقوق کے لئے ہڑتال اور مظاہرےکرنے کے سلسلے میں کوڑے مارنے کی سزا دی گئی۔

جہاں بہت سے ادیبوں اور صحافیوں کو ملک کے اندر رہتے ہوئے اِن حالات کا سامنا کرنا پڑا، وہاں بہت سے ایسے بھی تھے، جنہوں نے جلاوطنی اختیار کی۔ ضیاء الحق ہی کے دور میں ممتاز شاعرہ فہمیدہ ریاض یا پھر ملک کے نامور شاعر احمد فراز مرحوم ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ حسین نقی کے مطابق جلا وطنی اختیار کرنے والوں میں شاہد محمود ندیم بھی شامل تھے، جو آج کل پھر سے پاکستان ٹیلی وژن کے مینیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ ’’مساوات‘‘ اخبار کے ہمراز احسن یا پھر وہاب صدیقی بھی جلاوطن ہوئے۔

1937ء میں لکھنئو میں جنم لینے والے حسین نقی پچاس کے عشرے کے اوائل میں پاکستان آئے تھے۔ کراچی میں طلبہ سیاست میں حصہ لیا۔ 1958ء میں بطور صحافی پی پی آئی نیوز ایجنسی کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ تب سے وہ صحافیوں کے حقوق کے لئے جدوجہد میں مصروف رہے ہیں۔ اِس جدوجہد کے دوران اُنہیں کئی بار جیل بھی جانا پڑا۔

Pakistan Benazir Bhutto ermordet Reaktionen Zeitungsleser in Rawalpindi

پاکستان میں اردو، انگریزی ا ور علاقائی زبانوں میں سینکڑوں اخبارات شائع ہوتے ہیں

ڈوئچے ویلے کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں حسین نقی نے بتایا کہ ہر بات کہنے کی اجازت پاکستان میں کبھی بھی نہیں رہی۔ اُنہوں نے کہا کہ جب بھی ملک میں کوئی بحرانی حالات پیدا ہوتے ہیں تو میڈیا کسی حد تک اپنی آزادی کو استعمال کرنے اور اپنی بات کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم حکومت بھی فوراً پابندیاں لگانے کی کوشش کرتی ہے، جیسے کہ پرویز مشرف کے دور کے آخری مہینوں میں کئی چینلز پر لگائی گئی۔ کئی اشخاص پر پابندی عائد کی گئی کہ وہ پروگرام پیش نہ کریں۔

حسین نقی کے مطابق پریس کی آزادی پر پابندی میں کئی غیر ریاستی عناصر بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں، جیسے کہ آج کل طالبان مختلف صحافیوں کو دھمکیاں دیتے ہیں کہ وہ مخصوص حقائق کو منظرِ عام پر نہ لائیں ورنہ اُن کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ بہت سے صحافیوں کو خاص طور پر قبائلی علاقوں میں اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایسے عناصر اور تنظیموں کی کوشش ہوتی ہے کہ فقط ایسی ہی چیزیں شائع ہوں، جو اُن کے پروگرام اور ایجنڈے کو آگے بڑھا سکتی ہوں۔

حسین نقی نے بتایا کہ اِس سے پہلے ایک زمانہ ایسا بھی رہا کہ کراچی میں اخبارات ایم کیو ایم کے خلاف کوئی ایسی چیز شائع نہیں کر سکتے تھے، جو اِس جماعت کے لئے خفت کا باعث بن سکتی ہو۔

اُن کا کہنا تھا کہ میڈیا کو قیامِ پاکستان کے وقت ہی سے جدوجہد کرنا پڑی ہے۔ میڈیا پر سب سے پہلی پابندیاں سب سے پہلی حکومت کی جانب سے لگائی گئی تھیں۔ حسین نقی کے مطابق قیامِ پاکستان کے بعد تشکیل ہونے والی پہلی حکومت نے بھی کئی اخبارات کی اشاعت پر پابندی لگائی۔ سن 1951ء باون تک کوئی چالیس اخبارات پر پابندی لگ چکی تھی۔ یہ وہ دَور تھا، جب لیاقت علی خان ملک کے وزیر اعظم تھے۔

اِس سے پہلے قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی میں بھی ایک ایسی ہی کوشش کی گئی۔ ایک صحافی ایم ایس ایم شرما کو، جنہیں خود قائد اعظم نے پاکستان میں روکا تھا، پھر قائد نے اپنے ہی جہاز سے بھارت بھجوا دیا تھا۔ یہ وہی ایم ایس ایم شرما ہیں، جنہوں نے بعد میں ''Peeps into Pkaistan" کے نام سے ایک کتاب بھی تحریر کی، جس پر پاکستان میں پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

Terroralarm in London Zeitungsleser in Pakistan

پاکستانی شہری ایک مقامی اخبار کا مطالعہ کرتے ہوئے

حسین نقی نے کہا کہ پاکستان ہو یا ہندوستان، آزادی کی تحریک کے دوران صحافی برادری بہت زیادہ سرگرم عمل رہی۔ اِس تحریک کے دوران نمایاں خدمات سرانجام دینے والوں میں مولانا حسرت موہانی اور مولانا ابوالکلام آزاد جیسی شخصیات بھی شامل تھیں۔ اِن بے شمار شخصیات نے آزادی ملنے کے بعد بھی اپنی جدوجہد جاری رکھی۔

حسین نقی کے مطابق اِسی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں اب حالات کافی بہتر ہیں اور پچھلی دو حکومتوں میں بہت کم لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور تشدد بھی نسبتاً کم روا رکھا گیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ آخری فوجی ڈکٹیٹر پرویزمشرف کے دور میں ضیاء الحق کے مقابلے میں کافی کم خرابی ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ کسی بھی دور میں صحافت کو مکمل آزادی نہیں دی گئی، خواہ وہ ضیاء اور مشرف جیسے فوجی حکمرانوں کا دَور ہو یا پھر بے نظیر اور شریف برادران کا۔ حسین نقی نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ اور تو اور اُنہیں یہاں تک بھی پتہ چلا کہ شہباز شریف نے ایک بار لاہور کے ایک نیوز گروپ کے مالک کو اُس تجویز کے بارے میں بتایا تھا، جو اُنہیں اُس گروپ کو قومیا لئے جانے کے حوالے سے دی گئی تھی۔

حسین نقی نے بتایا کہ اگرچہ اب اظہارِ رائے کی آزادی کے حوالے سے صورتحال بہتر ہے لیکن اب بھی کچھ ’’متبرک گائیں‘‘ ہیں، جیسے کہ فوج۔ تاہم اُنہوں نے بتایا کہ اب فوج کے بارے میں بھی کچھ نہ کچھ شائع ہونے لگا ہے اور اُس کی کچھ ایجنسیوں اور زیادتیوں کے بارے میں تفصیلات مظاہروں وغیرہ کی صورت میں سامنے آ جاتی ہیں۔

حسین نقی نے بتایا کہ پاکستان میں بہت سے ادارے تعاقب کے شکار صحافیوں کو مدد فراہم کرتے ہیں، جن میں جرنلسٹوں کی یونین پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس بھی شامل ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ پاکستان میں بہت سے اخبارات کے مالکان اب خود ایڈیٹر بن بیٹھے ہیں۔ ایسے بھی ہیں، جو انگریزی کے اخبار کے ایڈیٹر اِن چیف ہیں اور ’’edit‘‘ کے سپیلنگ ڈبل ڈی سے کرتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اِکا دُکا ضرور ایسے ہیں، جو اخبار کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ صحافی بھی ہیں لیکن اکثریت ایسے مالکان کی ہے، جنہیں شاید دو جملے بھی لکھنا نہیں آتے۔

Muhammad Zia ul-Haq

جنرل ضیا الحق

اُنہوں نے بتایا کہ تعاقب کے شکار جرنلسٹوں کی مدد کرنے والے بہت سے غیر سرکاری اداروں میں ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان بھی ہے اور وکلاء کی تنظیمیں مثلاً بارکونسلز وغیرہ بھی ہیں۔ آج کل بہت سی سیاسی جماعتیں بھی صحافیوں کے حق میں آواز بلند کرتی ہیں۔ اب سیاسی جماعتوں کا رویہ پریس کی جانب پہلے سے بہت بہتر ہے لیکن ورکنگ جرنلسٹس کے لئے حالات بہت خراب ہیں۔

حسین نقی کے مطابق خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا میں تو ایک طرح کی لاقانونیت ہے کہ جہاں کئی ایک اداروں میں تنخواہیں ہی نہیں دی جاتیں۔ اُلٹا ایسا بھی سلسلہ ہے کہ کئی چینلز کے مالکان اُن سے یہ کہتے ہیں کہ کہیں سے وہ پیسہ لے کر آئیں، خود بھی کھائیں اور اُنہیں بھی کھلائیں۔

الیکٹرانک میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا، ملازمت کو تحفظ حاصل نہیں ہے۔ الیکٹرانک میڈیا میں تو کسی شخص کو ترغیب دے کر ایک ادارے سے نکال کر لاتے ہیں اور دو ہی مہینوں میں چلتا کر دیتے ہیں، تب وہ بےچارہ نہ ادھر کا رہتا ہے، نہ اُدھر کا۔ حسین نقی نے بتایا کہ بہت سے لوگوں سے یہ کہہ کر مفت کام کرواتے رہتے ہیں کہ ہم آپ کو اِس کام کی تربیت دے رہے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ورکنگ جرنلسٹس کے استحصال میں کئی بڑے اخبار بھی ملوث ہیں۔