1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آزادانہ سفر محدود بنانے پر یورپی یونین کا غور

یورپی یونین شینگن زون میں آزادانہ سفر کو محدود کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس کا مقصد یورپی ملکوں کی جانب آنے والے تارکین وطن پر قابو پانا ہے۔

default

اس حوالے سے بدھ کو ایک منصوبہ پیش کیا گیا ہے، جس کے تناظر میں یورپی یونین کے حکام شینگن زون میں شامل ممالک کو عارضی طور پر بارڈر کنٹرول بحال کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔

بعض ممالک نے تارکین وطن کے مسئلے پر قومی سطح پر زیادہ سے زیادہ اختیارات کا مطالبہ کیا تھا، جس کے بعد یورپی یونین میں اس حوالے سے غور وخوض شروع ہوا۔

اس موضوع پر بحث کا آغاز تیونس اور لیبیا کے بحران کے بعد ہزاروں تارکین وطن کی اٹلی کے ساحلوں پر آمد کے بعد شروع ہوا۔ روم حکومت نے دیگر یورپی ممالک سے اس حوالے سے معاونت کے لیے کہا تھا۔ تاہم اس سے یورپ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

یورپی یونین کی سربراہ برائے داخلہ امور سسیلیا مالمسٹورم کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کے حالیہ مسئلے پر قابو پانے کا ایک طریقہ ناگزیر حالات میں اندرونی سرحدوں کی بحالی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’ایسا کرنا اس وقت ضروری ہو سکتا ہے، (جب) بیرونی سرحدوں کے کسی حصے کو غیرمتوقع دباؤ کا سامنا ہوا۔‘

یہ منصوبہ قبول کر لیا گیا تو شینگن زون میں آزادانہ سفر مشکل بن جائے گا، حالانکہ اس زون کی اندرونی سرحدوں پر نگرانی نہ ہونے کو یورپی انضمام کی بڑی کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔

آئندہ ماہ یورپی یونین کے رہنماؤں کے خصوصی اجلاس میں بھی اس موضوع پر بات چیت ہو گی۔

یورپی کمیشن شمالی افریقہ کے ممالک سے آنے والے تارکین وطن پر قابو پانے کے لیے منصوبہ تشکیل دے رہا ہے۔ شینگن زون میں بارڈر کنٹرول کی تجویز اسی منصوبے کا حصہ ہے۔

Die schwedische Europaministerin Cecilia Malmström

یورپی یونین کی سربراہ برائے داخلہ امور سسیلیا مالمسٹورم

یورپی کمیشن خطے کی بیرونی سرحدوں کو محفوظ بنانا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنی بارڈر کنٹرول ایجنسی فرنٹیکس کو مزید اختیارات بھی دینا چاہتا ہے۔

لیبیا میں لڑائی کے باعث اب تک تقریباﹰ سات لاکھ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ ان میں سے ایک تہائی ایشیا اور دیگر افریقی ممالک کے تارکین وطن تھے، جو کام کی غرض سے وہاں آباد تھے۔ خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کام کی تلاش میں بحیرہ روم کے راستے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس