1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آرٹیکل پچاس صرف برطانیہ لاگو کر سکتا ہے، برطانوی وزیرخزانہ

برطانوی وزیرخزانہ جارج اوسبورن نے کہا ہے کہ کسی کو برطانیہ کے مالیاتی استحکام کی بابت شک نہیں ہونا چاہیے۔ اوسبورن نے یہ بات بریگزٹ ریفرنڈم کے بعد اپنے پہلے عوامی بیان میں کہی ہے۔

پیر 27 جون کو بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں کے نام اپنے پیغام میں اوسبورن نے کہا کہ برطانوی مالیاتی نظام انتہائی مستحکم ہے اور اس پر کسی صورت کوئی حرف نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی اقتصادیات ’مضبوط اساس اور کاروبار کے لیے انتہائی مضبوط ماحول کی حامل‘ ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ یورپی یونین کے لزبن معاہدے کے تحت بلاک سے اخراج کے لیے آرٹیکل پچاس کو لاگو کرنے کا اختیار صرف برطانیہ کو حاصل ہے۔

برطانیہ میں یورپی یونین کی رکنیت رکھنے یا نہ رکھنے کے سلسلے میں جمعرات 23 جون کو ہونے والے ریفرنڈم میں یورپی یونین سے اخراج کے عوامی فیصلے کے تناظر میں جمعے کے روز سے پاؤنڈ کی قیمت میں زبردست کمی دیکھی گئی ہے اور کہا جا رہا تھا کہ پیر کو مالیاتی منڈیاں دوبارہ کھلنے پر پاؤنڈ مزید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس دوران بین الاقوامی بازار حص میں دو ٹرلین ڈالر کا خسارہ ہو چکا ہے، جب کہ ریفرنڈم کے نتائج کے اعلان پر ڈالر کے مقابلے میں برطانوی پاؤنڈ کی قیمت گزشتہ 31 برس میں پہلی مرتبہ ایک ہی دن میں اس قدر گری۔

Großbritannien Finanzminister George Osborne zu EU-Referendum

برطانوی حکومت سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش میں ہے

اسی تناظر میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے اوسبورن نے آج پیر کی صبح اپنے پیغام میں کہا کہ برطانوی اقتصادیات اتنی مضبوط اور مستحکم ہے کہ وہ نئے چیلنجوں سے مقابلے کے لیے تیار ہے۔‘

تاہم خبر رساں اداروں کے مطابق مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی کی صورت حال اگلے کچھ روز تک برقرار رہ سکتی ہے۔

اوسبورن نے کہا کہ جمعرات کے روز منعقد ہونے والے ریفرنڈم کے بعد ایک نئی صورت حال پیدا ہو چکی ہے، اور برطانوی معیشت کو اس صورت حال کے تناظر میں خود کو ڈھالنا ہو گا۔ جی سیون ممالک کے وزرائے خزانہ سے ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد اوسبورن نے کہا کہ کسی غیر متوقع صورت حال سے نمٹنے کے لیے متبادل حکمتِ عملی بھی تیار کر لی گئی ہے، جو ضرورت پڑنے پر لاگو کر دی جائے گی۔

انہوں نے بینک آف انگلینڈ کے گورنر مارک کارنی کے اس اعلان کی بھی تصدیق کی کہ مالیاتی منڈیوں کو سہارا دینے کے لیے برطانیہ کے مرکزی بینک سے ڈھائی سو ارب پاؤنڈ کا اضافی سرمایہ استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ کیا یورپی یونین سے اخراج کی صورت میں برطانیہ کو کساد بازاری کا سامنا ہو سکتا ہے؟ اوسبورن نے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم واضح رہے کہ ان کی وزارت اس ریفرنڈم سے قبل متعدد مرتبہ کہتی آئی ہے کہ یورپی یونین سے انخلا برطانوی معیشت کے لیے تباہ کن ہو گا۔