1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آرمی چیف کے حق میں قرارداد اور پیپلز پارٹی کے اندر اختلافات

فوج اور جمہوری حکومت کے مابین اختیارات کی کشمکش اور جمہوریت کے لیے لڑنے والی پیپلز پارٹی کی طرف سے آرمی چیف کی حمایت میں جاری کیے جانے والے بیان نے ملکی سیاست میں بھونچال کی سی کیفیت پیدا کر رکھی ہے۔

اگرچہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کے حوالے سے دیا جانے والا بیان اب واپس لیا جا چکا ہے لیکن پارٹی کے اہم رہنما سینٹر سعید غنی، قائد حزب اختلاف خورشید شاہ، سابق وزیر اطلاعات قمر الزماں کائرہ اور دیگر پارٹی لیڈروں کی طرف سے جاری کی جانے والی متضاد وضاحتوں نے صورتحال کو اور بھی زیادہ مشکوک بنا دیا ہے۔ اس صورت حال میں اہم موڑ اس وقت آیا، جب پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو کے صاحبزادے، پیپلز پارٹی کے رہنما اور رکن پنجاب اسمبلی میاں خرم جہانگیر وٹو نے پنجاب اسمبلی میں جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کی حمایت میں قرار داد جمع کرائی۔

تازہ صورت حال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی پوری قیادت پاکستان آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے جاری کردہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹ چکی ہے۔ سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلمینٹیرین کے چئیرمین آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ وہ فوج کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف سر انجام دی جانے والی خدمات کو تو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن آرمی چیف کی مدت ملازمت کے حوالے سے جاری ہونے والے بیا ن سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

Khurum Jahangir Wattoo PPP Anführer

میاں خرم وٹوکے بقول اب تو پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے بھی اس قرار داد پر عملدرآمد کا عندیہ دے دیا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب پیپلز پارٹی کے تمام رہنماؤں نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے حوالے سے دیے جانے والے بیان سے لاتعلقی اختیار کر لی ہے، پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی میاں جہانگیر وٹو نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ اس ساری پیش رفت کے باوجود وہ آرمی چیف کی حمایت میں جمع کرائی گئی اپنی قرار داد واپس لینے کو تیار نہیں ہیں۔

ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ قرار داد اسمبلی سیکرٹیریٹ میں جمع کروا دی گئی ہے اور اب یہ قرارداد اسمبلی کے ریکارڈ کا حصہ ہے۔ ان کے بقول پنجاب اسمبلی کے اسپیکر اس قرار داد کو اگلے سات دنوں کے اندر "ٹیک اپ" کرنے کے پابند ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ قرار داد آصف علی زرداری کی طرف سے آرمی چیف کی حمایت میں جاری کیے جانے والے اس بیان کی روشنی میں جمع کروائی ہے، جو ہمارے لیے پارٹی گائیڈ لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے بقول ابھی تک پیپلز پارٹی کے کسی بھی رہنما نے ان سے نہ تو کوئی باز پرس کی ہے اور نہ ہی انہیں یہ قرار داد واپس لینے کے لیے کہا ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ اگر ان کی پارٹی انہیں یہ قرار داد واپس لینے کے لیے کہے تو کیا وہ پھر بھی اسے واپس نہیں لیں گے ؟ ان کا کہنا تھا کہ قرارداد واپس لینے کی بجائے ان کی کوشش ہو گی کہ وہ عوام اور پارٹی کے اندر اس قرار داد کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ مفاہمت پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی ایک عوامی جماعت ہے اور اس قرار داد میں عوامی رائے عامہ کو مدنظر رکھ کر بات کی گئی ہے اور انہیں امید ہے کہ پارٹی ان کو سپورٹ کرے گی، ’’ہم ذمہ دار لوگ ہیں، پارٹی پالیسی کو سمجھتے ہیں، ہم بلا سوچے سمجھے یہ قرار داد کیسے جمع کرا سکتے تھے۔‘‘

Khurum Jahangir Wattoo PPP Anführer Resolution

پیپلز پارٹی کے رکن میاں جہانگیر وٹو کی طرف سے جمع کروائی جانے والی قرار داد میں کہا گیا ہے، ’’معروضی حالات اور عوامی خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ ایوان وفاقی حکومت پر بھرپور زور دیتا ہے کہ وہ قومی مفاد اور ملکی سلامتی کی خاطر جنرل راحیل شریف کی سروس میں توسیع کرے۔‘‘

میاں خرم وٹوکے بقول اب تو پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے بھی اس قرار داد پر عملدرآمد کا عندیہ دے دیا ہے۔ یاد رہے کہ رانا ثناء اللہ نے جمعرات کی صبح صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ایک آئینی معاملہ ہے اور اسے قراردادوں یا ٹاک شوز میں ڈسکس کرنے کی بجائے آئین کے مطابق طے کیا جانا چاہیے۔ ان کے بقول اگر اس قرارداد کو اسمبلی میں لایا گیا تو وہ اس میں ترامیم تجویز کریں گے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکن میاں جہانگیر وٹو کی طرف سے جمع کروائی جانے والی قرار داد میں کہا گیا ہے، ’’معروضی حالات اور عوامی خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ ایوان وفاقی حکومت پر بھرپور زور دیتا ہے کہ وہ قومی مفاد اور ملکی سلامتی کی خاطر جنرل راحیل شریف کی سروس میں توسیع کرے۔‘‘

جنرل راحیل شریف یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ اپنی تین سالہ مدت پوری ہونے پر ریٹائر ہو جائیں گے۔

اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کے ایک سینئر تجزیہ کار نوید چوہدری نے بتایا کہ پارٹی پالیسی کے خلاف میاں خرم وٹو کا قراداد کے لیے اصرار ان کے لیے بہت حیران کن ہے، ’’اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک تو یہ کہ پیپلز پارٹی نون لیگ کی ملی بھگت سے جان بوجھ کر ایک ایسی کنفیوژن پیدا کرنا چاہتی ہے، جس سے آرمی چیف کی پوزیشن کو متنازعہ بنایا جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ میاں خرم کی طرف سے یہ اقدام ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے، جب میاں خرم کے اسٹیبلیشمنٹ سے قربت کی شہرت رکھنے والے والد میاں منظور احمد وٹو کو پیپلز پارٹی پنجاب کی صدارت سے ہٹانے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔‘‘

پاکستان میں بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اصل معاملہ خواہ کچھ بھی ہو، ایک بات واضح ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے زرداری کے اصلی یا مبینہ بیان کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان مسلم لیگ نون کو اپنا پیغام درست طریقے سے پہنچا دیا ہے اور میاں خرم کی قرار داد نے پیپلز پارٹی ہی نہیں بلکہ مسلم لیگ نون کو بھی مشکل سے دوچار کر دیا ہے۔