1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آرمی چیف کی بریفنگ، کیا سیاسی بے یقینی ختم ہو سکے گی؟

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے ملک کے ایوانِ بالا میں حاضری دی اور اراکین سینیٹ کی طرف سے پوچھے گئے تمام طرح کے سوالات کے جوابات دیے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ فوجی سربراہ نے ایوان بالا میں حاضری دی۔

آرمی چیف کی بریفنگ کے بعد ملک میں کئی حلقے یہ خیال کر رہے ہیں کہ اس سے جمہوریت مستحکم ہوگی، سیاسی عدم استحکام کم ہوگا اور سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان تعاون بڑھے گا۔
یہ اجلاس سینیٹ کی پوری کمیٹی کا تھا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین رضا ربانی نے کی جب کہ وائس چیئرمین مولانا عبدالغفور حیدری نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔ ڈی جی آئی ایس آئی نوید مختار، ڈی جی ایم اوساحر شمشاد مرزا اور دیگر عسکری حکام بھی بریفنگ میں موجود تھے۔


آئی ایس پی آر کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام سوالات میرٹ پر کیے گئے۔ تمام سینیٹرز نے آرمی چیف کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا۔ ڈی جی ایم او نے جیو پولیٹکل صورتِحال پر بریفنگ دی۔ آرمی چیف نے ایک گھنٹے بریفنگ دی اور اس کے بعد تین گھنٹے سوالات ہوئے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ پاکستان کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے مل جل کر کام کریں گے۔ خطے میں سکیورٹی کے حوالے سے سینیٹرز پوری طرح واقف تھے۔ سکیورٹی صورتِ حال پر پاک فوج کی تعریف کی گئی۔ تمام سینیٹرز کو خطرات سے آگاہ کیا گیا اور ان سے نمٹنے کا لائحہ عمل بھی بتایا گیا۔
اس بریفنگ کے چند نکات کا تذکرہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عبدالغفور نے ذرائع ابلاغ کے سامنے کیا۔ تاہم سینیٹر نہال ہاشمی نے اس اجلاس کے کچھ نکات میڈیا کو بتائے، جو کئی تجزیہ نگاروں کے لیے حیران کن تھے۔ نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے کہا کہ ملک میں صدارتی نظام کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس سے ملک کمزور ہوتا ہے۔ جو ریٹائرڈ فوجی افسران ٹی وی پر تبصرے کرتے ہیں وہ فوج کے ترجمان نہیں۔ نہال ہاشمی نے کہا کہ آرمی چیف نے دھرنے والوں سے لا تعلقی کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر یہ ثابت ہوجائے کہ آرمی کا دھرنوں سے کوئی تعلق تھا تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔

پاکستان کے ذرائع ابلاغ کے ایک حصے نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آرمی چیف نے ایران اور سعودی عرب کے حوالے سے بھی باتیں کیں۔ جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان لڑائی نہیں ہوگی اور پاکستان ایسا نہیں ہونے دے گا۔ اکتالیس ملکو ں کا اتحاد کسی کے خلاف نہیں اور اس کے ٹی او آرز  بھی ابھی تک طے نہیں ہوئے ہیں۔ فوجی سربراہ کے مطابق پارلیمنٹ دفاع اور خارجہ پالیسی بنائے، فوج اس پر عمل کرے گی۔

کئی سینیٹرز نے ڈوئچے ویلے سے اس مسئلے پر بات کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ ان کیمرہ بریفنگ ہے اور وہ اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتے ۔ تاہم سب کا یہ خیال تھا کہ یہ جمہوریت کے لیے اچھا ہے کہ آرمی چیف نے ایوانِ بالا میں بریفنگ دی ہے۔
ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے سینیٹر کبیر شاہی نے کہا، ’’کیونکہ یہ ان کیمرہ بریفنگ تھی تو میں اس حوالے سے آپ کو کچھ نہیں بتاؤں گا۔ تاہم میں یہ کہہ سکتا ہوں کے سینیٹرز نے ہر طرح کے سوالات کیے اور ان پر کسی طرح کی کوئی پابندی نہیں تھی۔ ایوان میں حاضری تقریباﹰ پوری تھی۔ میرے خیال میں ان کی بریفنگ ملک کے لیے اور دنیا کے لیے بھی ایک اچھا پیغام ہے۔ اس سے ملک میں جمہوریت مضبوط ہوگی اور اداروں کے درمیان تعاون بھی بڑگے گا۔‘‘

Pakistan Parlament in Islamabad (AAMIR QURESHI/AFP/Getty Images)

پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا میں آرمی چیف نے ایک گھنٹے بریفنگ دی اور اس کے بعد تین گھنٹے سوالات ہوئے


معروف تجزیہ نگار سہیل وڑائچ نے اس بریفنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’میرے خیال میں اس بریفنگ کی وجہ سے ملک میں پائی جانے والی سیاسی غیر یقینی کا کسی حد تک خاتمہ ہوگا۔ آرمی چیف ذاتی طور پر جمہوریت پسند ہیں اور ایسے کوئی اشارے ان کی طرف سے کبھی نہیں ملے ہیں کہ وہ اس نظام سے خوش نہیں ہیں۔ تاہم ملک کے کچھ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سیاسی جوڑ توڑ میں ملوث ہے۔ دھرنوں میں اس کا ہاتھ ہے۔ وہ سینیٹ کے انتخابات نہیں چاہتی۔ وہ قبل از وقت انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے اور وہ یہ نہیں چاہتی کہ نواز شریف دوبارہ اقتدار میں آئیں۔ تو اس طرح کے تاثر کو ختم کرنا ہوگا۔ میرے خیال میں آج کی بریفنگ سیاست دانوں کے لیے ایک یقین دہانی ہے کہ انتخابات وقت پر ہوں۔ سیاسی جماعتوں کی توڑ پھوڑ نہیں ہوگی اورجمہوریت چلے گی۔ اگر یہ سب کچھ ہوتا ہے تو پھر یقیناً اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے پھیلائے جانے والے تاثر کی نفی ہوگی۔‘‘