1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’آرمی چیف کا دورہ امریکی دباؤ کم کرانے کی کوشش کا حصہ تھا‘

پاکستانی آرمی چیف نے متحدہ عرب امارات کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی اور بعد میں قمر باجوہ سعودی عرب پہنچے جہاں انہوں نے ایک کانفرنس میں شرکت کی اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔

پاکستان میں سیاسی مبصرین کے لیے یہ بات باعثِ حیرت ہے کہ اس دورے کے حوالے سے دفترِ خارجہ کا کوئی بیان نہیں آیا۔ کئی تجزیہ نگاروں کے خیال میں یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب افغانستان میں امن کے حوالے سے چار ملکوں کا اجلاس حال ہی میں ہوا ہے اور اسلام آباد پر ڈُو مور کے لیے واشنگٹن سے دباؤ آرہا ہے۔ لیکن کچھ تجزیہ نگاروں کے خیال میں اس دورے کو ایران مخالف ماحول کے پسِ منظر میں دیکھا جانا چاہیے۔


معروف تجزیہ نگار عائشہ صدیقہ کے خیال میں پاکستان کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے اہم ارکان سے کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہے، تو اسلام آباد ایسے لوگوں کی مدد چاہتا ہے جو امریکی دباؤ کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوں یا پاکستانی حکومت اور امریکا کے درمیان تعلقات اور رابطوں کی بہتری میں کوئی کردار ادا کر سکیں۔

اس دورے پر اپنی رائے دیتے ہوئے انہوں نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’میرے خیال میں اس دورے کو پاک امریکا تعلقات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ٹرمپ کے حالیہ بیان پر ہم نے بہت شادیانے بجائے، جس میں اس نے پاکستان کی تعریف کی تھی لیکن ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ پہلے امریکی پالیسی تھی کیرٹ اینڈ اسٹک اب اس کا الٹا ہوگا۔ اب پہلے امریکا ڈنڈا دکھائے گا اور بعد میں کوئی تعاون کی بات کرے گا۔ اسلام آباد کا ٹرمپ سے براہ راست کوئی رابطہ نہیں لیکن سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے رہنما اور افغان صدر کے امریکی رہنما سے اچھے تعلقات اور روابط ہیں۔ اس لیے آرمی چیف نے پہلے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی اور انہیں کچھ یقین دہانیاں کرائیں اور اب وہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں سے ملے ہیں تاکہ یہ رہنما اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانے میں مدد کریں، جس کا مقصد بنیادی طور پر امریکی دباؤ کو کم کرانا ہے۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’سعودی عرب کے ایران اور قطر کے ساتھ سیاسی تنازعات چل رہے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ قطر میں کوئی سیاسی تبدیلی سعودی آشیر باد کے ساتھ آجائے ۔ تو ریاض ممکنہ طور پر یہ چاہتا ہے کہ ان تنازعات میں پاکستان، جو اپنے جوہری اثاثوں کی وجہ سے ریاض کے لیے انتہائی ہے، سعودی حکمرانوں کے ساتھ ہو۔‘‘

Muhammad bin Raschid Al Maktum (picture alliance/Photoshot)

پاکستانی فوجی سربراہ نے متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیراعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم سے ملاقات کی تھی۔


لیکن تجزیہ نگار احسن رضا کے خیال میں اس دورے کو سعودی ایران تعلقات کے حوالے سے دیکھا جا نا چاہیے اور اس کا امریکا سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔ اس دورے پر اپنی رائے دیتے ہوئے احسن رضا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’مشرقِ وسطیٰ میں ایران مخالف فضاء ایک بار پھر پیدا ہورہی ہے۔ امریکا نے ایران پر پابندیاں لگائی ہیں اور اس کو سعودی عرب نے سراہا بھی ہے۔ اب ان پابندیوں کے بعد ریاض خطے کے دوسرے ممالک کو بھی ایران کےحوالے سے اپنا ہمنوا بنا رہا ہے تاکہ اگر کوئی ایران مخالف اقدام ہو تو اس کو کئی ممالک کی حمایت حاصل ہو۔‘‘