1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’آرمی چيف وہ کر رہے ہيں، جو ان کے پيش رو کرنے سے کتراتے تھے‘

امريکی فوج کے ايک اعلیٰ سطحی جنرل نے پاکستانی فوج کے سربراہ کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ وہ طالبان اور حقانی نيٹ ورک کے خلاف کارروائياں کر رہے تاہم انہيں اس معاملے ميں مزيد ’مستقل مزاجی‘ کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔

امريکی سينٹرل کمانڈ يا CENTCOM کے کمانڈر جنرل جوزف ووٹل نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاويد باجوہ نے ان عسکری گروپوں کے خلاف بھی کارروائی شروع کر دی ہے جن کے خلاف کارروائی سے سابقہ فوجی سربراہان گريز کرتے آئے ہيں۔ ووٹل نے يہ بات امريکی سينيٹ کی آرمڈ سروسز کميٹی کو بريفنگ ديتے وقت گزشتہ روز کہی۔ ان کے بقول افغانستان ميں نيٹو اور امريکی افواج کے سربراہ جنرل نکلسن کی گزشتہ دنوں سرحد پر چند آپريشنر ميں پاکستانی فوج نے معاونت کی تھی۔ کمانڈر جنرل جوزف ووٹل نے اسے درست سمت ميں ایک پيش رفت قرار ديا۔

امريکی جنرل کا اس موقع پر يہ بھی کہنا تھا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اس سلسلے ميں مزيد مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرے اور اس مخصوص علاقے پر توجہ دے۔ جمعرات کو سينيٹ کی کميٹی کو بريفنگ کے دوران سينيٹر ٹوم کاٹن کے ايک سوال کا جواب ديتے ہوئے ووٹل کا کہنا تھا، ’’ميرے خيال ميں يہ بات اہم ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات اچھے ہوں۔ يہ حقيقت ہے کہ دونوں ملکوں کی مشترکہ سرحد پر تعلقات کشيدہ ہيں۔ ايسی صورتحال ميں ہم دونوں ممالک کے باہمی تعلقات ميں بہتری کے ليے کردار ادا کر سکتے ہيں۔‘‘

مرکزی کمان کے جنرل ووٹل کا کہنا تھا کہ واشنگٹن ايک عرصے سے پاکستان ميں طالبان اور ديگر شدت پسند گروپوں کی پناہ گاہوں کی موجودگی کا معاملہ اٹھاتا آيا ہے۔ انہوں نے اپنی بريفنگ ميں واضح کيا کہ پاک افغان سرحد اور خطے ميں دہشت گردی کے خلاف لڑائی ميں پاکستان، امريکا کا اہم اتحادی ملک ہے۔ اس دوران پاکستان نے کئی ايسے اقدامات کيے، جو امريکی و نيٹو افواج کے ليے سود مند ثابت ہوئے۔

سينيٹ کی آرمڈ سروسز کميٹی سے اپنے خطاب ميں جنرل ووٹل نے يہ بھی بتايا کہ پاکستان اور بھارت کے مابين مسلسل کشيدگی برقرار ہے۔ ايک موقع پر ان کا يہ بھی کہنا تھا کہ اسلام آباد کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے کی بھارتی کوششيں دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات ميں بہتری کی راہ ميں رکاوٹ ہيں۔ ان کے بقول يہ اس ليے بھی باعث تشويش ہے کيونکہ دونوں ممالک جوہری ہتھياروں کے حامل ہيں اور کشيدگی ميں اضافہ جوہری ہتھياروں کے استعمال کا سبب بن سکتا ہے۔