1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آرمی پبلک اسکول پر حملے میں ملوث چار ’جہادیوں‘ کو پھانسی

پشاور کے آرمی پبلک اسکول کے حملے میں ملوث چار مجرموں کو آج بدھ کی صبح پھانسی دے دی گئی۔ چاروں کو پھانسی کوہاٹ جیل میں دی گئی۔ گزشتہ روز اِن افراد کی ان کے اہلِ خانہ سے ملاقات بھی کروائی گئی تھی۔

پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبے خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ کی سویلین جیل میں پھانسی پانے والوں میں مولوی عبدالسلام، حضرت علی، مجیب الرحمان اور سبیل عرف یحییٰ شامل تھے۔ اِن کو موت کی سزا دینے کے احکامات یا بلیک وارنٹ پاکستانی فوج کی جانب سے پیر کے روز جاری کیے گئے تھے۔ تختہٴ دار پر چڑھانے والے ان چاروں افراد کی آخری اپیلیں مسترد ہونے کے بعد اُن کے بلیک وارنٹ یا موت کی سزا دینے کے حکم نامے پر جنرل راحیل شریف نے دستخط کیے تھے۔

بتایا گیا ہے کہ ان مجرموں کا تعلق انتہا پسند جہادیوں سے تھا اور وہ کئی دہشت گردانہ حملوں میں بھی ملوث رہ چکے تھے۔ پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر کیے گئے حملے میں ڈیڑھ سو سے زائد بچے اور ٹیچرز ہلاک ہو گئے تھے۔ پھانسی پانے والے مولوی عبدالسلام پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ اُس نے خود کش حملوں کی معاملے کی نگرانی کی تھی۔ یہی شخص نیشنل ڈویلپمنٹ کمپلیس کے ڈائریکٹر اور دو کرنیلوں کی ہلاکت میں بھی ملوث تھا۔ ایک اور مجرم حضرت علی قانون نافذ کرنے والے عملے پر حملے میں ملوث رہا تھا۔ اس نے اغوا کی کئی وارداتوں کا اعتراف بھی کیا تھا۔ اِس مجرم نے آرمی پبلک اسکول پر حملے کے لیے سرمائے کو اکھٹا بھی کیا تھا۔ یہ مجرم لیوی کے تیئیس افراد کی ہلاکت کے حملے میں شریک تھا۔

Pakistan Anschlag in Kohat

تین سال قبل کوہاٹ کے قریب بنوں جیل پر جہادیوں نے حملہ کر کے کئی جہادیوں کو آزاد بھی کروا لیا تھا

پھانسی پانے والوں میں تیسرا مجرم مجیب الرحمان تھا اور یہ مجرم پاکستان ایئر فورس پر حملے میں ملوث دس جہادیوں کو لے کر آیا تھا۔ آرمی اسکول پر حملے کی منصوبہ بندی میں بھی شریک رہا ۔ مجیب الرحمان نے عدالت سے قبل مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرائم کا اعترافی بیان دیا تھا۔ آج بدھ کے روز پھانسی پانے والا چوتھا مجرم سبیل عرف یحییٰ ایک سرگرم جہادی تھا۔ پاکستان ایئر فورس بیس اور ایک پولیس پوسٹ کے لیے جہادیوں کو لانے کے علاوہ وہ آرمی پبلک اسکول پر حملے کی پلاننگ میں شریک رہا تھا۔

ان تمام افراد کو تیرہ اگست کو سزا سنائی گئی تھی۔ اِسی مقدمے میں تین اور مجرموں کو بھی موت کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ پاکستانی فوج کے مطابق ابھی اُن کے ڈیتھ وارنٹ جاری نہیں کیے گئے ہیں۔ ایسا بھی خیال کیا گیا ہے کہ اِن تین ملزموں کی اپیلیں آخری مرحلے میں ہوں گی۔پھانسی پانے والے چاروں مجرموں کا تعلق جہادی و عسکری گروپ توحید ولاجہاد گروپ بتایا گیا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ پاکستان کے شورش زدہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندانہ سرگرمیوں میں ملوث یہ ایک انتہائی غیرمعروف گروپ ہے۔