1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آرمی و انٹیلیجنس سربراہوں کو برطرف نہیں کرنا چاہتے، گیلانی

پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے مقامی ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے، جن میں کہا گیا ہے کہ حکومت آرمی و انٹیلیجنس چیف کو برطرف کرنا چاہتی ہے۔

default

پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی

یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل شجاع پاشا کو فارغ کرنے کا منصوبہ نہیں بنا رہی۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے جمہوریت کا ساتھ دیا ہے۔

انہوں نے یہ باتیں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہیں۔ ان کی یہ گفتگو ٹیلی وژن پر نشر بھی ہوئی۔ اس دوران گیلانی نے کہا: ’’جہاں تک ان افواہوں کا سوال ہے کہ حکومت ڈی جی آئی ایس آئی اور جنرل کیانی کو برطرف کرنا چاہتی ہے، یہ بالکل احمقانہ باتیں ہیں۔‘‘

پاکستانی وزیر اعظم نے مزید کہا: ’’ایسی باتیں پھیلانا غلط ہے۔ اگر ایسا ہوتا، تو میں انہیں توسیع نہ دیتا، میں ان (آرمی چیف) کے کام سے خوش ہوں اور اس تاثر کو ختم کرنا چاہتا ہوں۔‘‘

گیلانی کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنرل کیانی جمہوریت نواز ہیں اور وہ ایسے وقت میں انہیں عہدے سے ہٹانا نہیں چاہتے جب ملک کو جنگ کا سامنا ہے۔

حکومت نے گزشتہ برس جنرل کیانی کے عہدے کی میعاد 2013ء تک بڑھا دی تھی، جبکہ شجاع پاشا کے عہدے کی میعاد مارچ 2012ء تک بڑھائی گئی تھی۔

میمو اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد سے پاکستان کی سویلین حکومت اور عسکری حکام کے درمیان تنازعے کی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔

Pakistan Armeechef General Ashfaq Pervez Kiani

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی

اس اسکینڈل کے مطابق رواں برس مئی میں پاکستان کے علاقے ایبٹ آباد میں امریکی فورسز کے خفیہ آپریشن میں دہشت گرد گروہ القاعدہ کے سابق سربراہ کی ہلاکت کے بعد، واشنگٹن انتظامیہ کو ایک میمو بھیجا گیا تھا، جس میں فوج کے خلاف مدد طلب کی گئی تھی۔

امریکہ میں تعینات پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی پر الزام ہے کہ انہوں نے یہ میمو حکومت کی جانب سے تحریر کیا تھا۔ وہ اس الزام کو رد کر چکے ہیں اور اپنے عہدے سے بھی مستعفی ہو چکے ہیں۔

پاکستانی فوج ملک کی چونسٹھ سالہ تاریخ میں تقریباﹰ نصف عرصے تک حکومت کرتی رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے فوج نے خود اقتدار میں آنے کی افواہوں کو ردّ کیا تھا۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس