1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

آرمینیا کی سوین جھیل خطرات کا شکار

جنوبی قفقاز کے ملک آرمینیا میں واقع سوین جھیل ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ایک مرتبہ پھر خطرے کا شکار ہو چکی ہے۔ یہ جھیل خطے میں پانی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

default

جھیل سوین ( Sewan)جنوبی قفقاز کے علاقے آرمینیا میں واقع ہے۔ یہ دنیا کے بلند ترین پہاڑوں میں پائی جانے والی بڑی جھیلوں میں سے ایک ہے۔ یہ جھیل خطے میں ماحولیاتی اعتدال کے لئے غیر معمولی طور پر اہم تصور کی جاتی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں یہ خشک ہوتی جا رہی ہے۔ اس وجہ سے ماحول دوست ادارے اور آرمینیا کی حکومت نہ صرف پریشان ہے بلکہ اس جھیل کو محفوظ بنانے کے لئے کوشاں بھی ہے۔

سطح سمندر سے اٹھارہ سو میٹر بلند پہاڑوں میں واقع سوین جھیل میں پانی کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔ اس جھیل سے بجلی پیدا کرنے اور زراعت کے لئے بھی پانی لیا جاتا رہا ہے۔ سوویت دور میں اس جھیل کی گہرائی بائیس فٹ تھی لیکن رفتہ رفتہ اس جھیل میں پانی کی سطح کم ہوتی جا رہی ہے۔ سوان جھیل کے ماہر Rafael Howhannisyan کہتے ہیں: ’’پچاس کے عشرے میں اور ساٹھ کے آغاز پر اس جھیل میں پانی کی سطح اچانک ہی کم ہونے لگ گئی۔ پہلے اس جھیل کی گہرائی تقریباً بیس میٹر تھی اور اب اس کی گہرائی پانچ میٹر رہ گئی ہے۔گزشتہ کچھ سالوں کے دوران اس جھیل کے پانی میں اضافہ ہوا ہے ورنہ چار سال قبل تو اس کی گہرائی ایک میٹر رہ گئی تھی۔‘‘

Rafael Howhannisyan

Rafael Howhannisyan اور Mirko Schwanitz

رافائیل اس جھیل کی جان سمجھے جاتے ہیں۔ سن 1960ء کے آغاز پر ہی رافائیل نے اس جھیل کو محفوظ اور بہتر بنانے کے لئے کام شروع کر دیا تھا۔ ماضی کے جھرونکوں میں جھانکتے ہوئے وہ کہتے ہیں: آغاز میں کچھ پن بجلی گھر بند ہوئے اور بعد ازاں ایک جوہری پلانٹ تعمیرکیا گیا۔ تب ہم نے سوچا کہ اڑتالیس کلو میٹر لمبی ایک ایسی سرنگ بنائی جائے، جس کے ذریعے پانی اس جھیل تک پہنچایا جائے۔ اور سن 1964 میں اس سرنگ کی تعمیر شروع کی گئی۔‘‘

تب تک اس جھیل کے گرد ونواح میں پائے جانے والی جانداروں کی کئی نایاب اقسام ختم ہوگئیں تھیں۔ جھیل کو محفوظ بنانے کے لئے شروع کئے گئے اس آپریشن کے پینتالیس برس بعد رافائیل کہتے ہیں: ’’ اب گزشتہ پانچ سالوں سے اس جھیل میں پانی کی سطح کوئی پانچ میٹر بلند ہو چکی ہے۔‘‘

اب اس جھیل میں پانی کی سطح میں ہر برس آٹھ انچ کا اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن جب یہ جھیل محفوظ ہوتی نظر آ رہی ہے، اسے ایک اور تباہی نے آن گھیرا ہے۔ روسی کان کن کمپنی کی طرف سے سوان جھیل کے قریب ہی ایک سونے کو پروسیس کرنے کے ایک پلانٹ لگانے کے مجوزہ منصوبے نے ماحول دوست اداروں اور کارکنان کو پریشان کر دیا ہے۔ اس مجوزہ منصوبے کے مطابق یہ پلانٹ جھیل سے دس کلو میٹر دور تعمیر کیا جائے گا۔

Umweltschützerin Inga Zarafian am Sewansee

Mirko Schwanitz اور Inga Zarafian سوین جھیل کے کنارے پر

بتایا جاتا ہے کہ اس پلانٹ میں کیمیکل اور زہریلی گیسوں کو ناکارہ بنانے کے لئے ایک ذخیرہ بھی بنایا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ذخیرے کی وجہ سے زیر زمین پانی کے آلودہ ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور نتیجتاً جھیل سوان کا پانی بھی آلودہ ہو جائے گا۔ ماحول دوست کارکن Inga Zarafian اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں: ’’ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس جھیل کے قریب موجود تمام پتھروں کو اڑا دیں گے۔ اگرچہ یہ قانون ہے کہ اس جھیل کے نواح میں کوئی ایسی فیکٹری وغیرہ تعمیر نہیں کی جاسکتی تاہم روسی کمپنی، حکومت کے ساتھ مل کر اس قانون میں ترمیم کر سکتی ہے‘‘

چونکہ جنوبی قفقاز کے بیشتر علاقوں میں زیر زمین پانی کا انحصار اسی جھیل پر ہے، اس لئے ترکی اور آذربائیجان کے ماہر ماحولیات بھی اس جھیل کو محفوظ بنانے کے لئے سنجیدہ ہیں۔ ان دونوں ممالک نے بھی اپنی اپنی سطح پر آرمینیا حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس حوالے سے مناسب اور ٹھوس اقدامات اٹھائے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM