1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کی95 ویں برسی

پہلی عالمی جنگ کے دوران ترک عملداری والے علاقوں سے مہاجرت پر مجبور کئے جانے والے آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کی 95 ویں برسی پر ہزاروں افراد نے مرحومین کے سوگ میں یادگاری چراغ روشن کئے۔

default

سوگواری جلوس

پہلی عالمی جنگ کے دوران ترکی میں خلافت عثمانیہ کی حکومت کا چراغ گل ہونے کے قریب تھا۔ اس جنگ کے دوران حکومتی مشیروں کی ہدایت پر آرمینیائی باشندوں کو گھر بار چھوکڑ کر ہجرت کرنے کی ہدایت کی گئی اور اس سفر کے دوران لاکھوں افراد کی ہلاکت ہو گئے۔ اب اِس واقعے کو پچانوے برس بیت چکے ہیں۔ آرمینیا میں ہفتہ کے روز ہونے والی برسی کی تقریبات کا آغاز آرمینیا کے صدر زیرش سارکسیان نے دارالحکومت یریوان میں تعمیر کی گئی ہلاک شدگان کی یادگار پر پھول چڑھا کر کیا۔ صدر نے اس برسی کی تقریب میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اُن ملکوں کا شکریہ ادا کیا، جو انصاف کے حصول کی جدوجہد میں آرمینیائی باشندوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔

آرمینیا کے کونے کونے میں ہر سال چوبیس اپریل کو پہلی عالمی جنگ کے دوران ہلاک ہونے والوں آرمینیائی مقتولین کی یاد میں خصوصی سوگوار تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ آرمینیائی دانشوروں اور سیاسی اکابرین کا خیال ہے کہ اس دوران پندرہ لاکھ باشندے موت کے منہ میں دھکیل دئے گئے تھے۔ ان میں دانشور، شاعر، مصنفین، مصور اور سیاسی کارکن کی بھی شامل تھے۔

Gedenken an Massaker in Eriwan Armenien Flash-Galerie

پہلی عالمی جنگ کے دوران آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کی یاد گار پر پھول چڑھائے جانے کی تقریب

دوسری جانب ترکی کے تاریخی ریسرچرز کو یقین ہے کہ مہاجرت پر مجبور آرمینیائی آبادی کے زیادہ سے زیادہ دو لاکھ افراد حکومتی جبر کا نشانہ بنے تھے اور یہ قطعاً نسل کشی کے زمرے میں نہیں لایا جا سکتا۔ ترکی کا یہ بھی کہنا تھا کہ دوران جنگ یہ آبادی روس کی حامی ہو گئی تھی اور یہی ہلاکتوں کی بنیادی وجہ تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ ترک مؤقف میں یہ بھی شامل ہے کہ اس دوران بے شمار ترک، کرد اور عیسائی افراد کی ہلاکتوں کا باعث مذہبی اور نسلی فسادات تھے۔

ہمسایہ ملکوں ترکی اور آرمینیا کے درمیان تعلقات کی بحالی میں یہ ہلاکتیں بھی حائل ہیں۔ ترکی اِس واقعہ کو قتل عام سے تعبیر کرتا ہے اور آرمینیا میں اِسے نسل کشی خیال کیا جاتا ہے۔ یریوان میں ان ہلاکتوں کو ایک قدیمی ثقافت اور کلچر کو ختم کرنے کی دور عثمانی کی شعوری کوشش کہا جاتا ہے۔ اس برسی کے تناظر میں امکاناً آرمینیا کی پارلیمنٹ نے گزشتہ سال انقرہ اور یریوان حکومتوں کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کی توثیق مؤخر کر دی ہے۔

اس دن کے حوالے سے عالمی منظر پر اہم پیش رفت یہ ہے کہ امریکی صدر اوباما کے خصوصی بیان میں ان ہلاکتوں کو نسل کشی کی جگہ قتل عام قرار دیا گیا ہے۔ امریکی صدر کے بیان پر کئی آرمینیائی دانشوروں نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹ:  عابد حسین

ادارت:  امجد علی

DW.COM