1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آرتھر گولڈرائخ انتقال کر گئے

جنوبی افریقہ کے معروف فنکار اور نسلی تعصب پر مبنی قوانین کے خلاف آواز بلند کرنے والے کارکن آرتھر گولڈرائخ 82 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔

default

آرتھر گولڈ رائخ

آرتھر گولڈ رائخ 1929ء میں جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ کے نواح میں پیدا ہوئے۔ تجریدی مصور گولڈ رائخ جنوبی افریقہ کے سابق رہنما نیلسن منڈیلا کے قریبی ساتھی تھے۔ انہوں نے ساٹھ کی دہائی میں نیلسن منڈیلا کو اُس وقت پناہ دی تھی، جب وہ ملک میں سفید فام اقلیتی حکومت کی نسلی تعصب پر مبنی پالیسیوں کے خلاف مہم چلا رہے تھے۔

گولڈ رائخ نے اپنی ابتدائی زندگی جنوبی افریقہ میں ہی گزرای تاہم 1940ء میں وہ اسرائیل چلے گئے۔ وہاں انہوں نے باقاعدہ طور پر گوریلا لڑائی کی تربیت حاصل کی اور مختصر چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیلی فوجوں کے ساتھ مل کر جنگ میں حصہ لیا۔ اس جنگ کے کئی برسوں بعد یعنی 1954ء میں وہ جنوبی افریقہ واپس چلے گئے اور وہاں انہوں نے سفید فام اقلیتی حکومت کی معتصبانہ پالیسیوں کے خلاف سرگرم سیاسی جماعت ANC کے کارکنان کا خفیہ طور پر ساتھ دیا۔

Cover Bekenntnisse Biographie Nelson Mandela

نیلسن منڈیلا

1954ء میں ہی انہیں جنوبی افریقہ کے کم عمر ترین مصور کے طور پر ایک اعلیٰ انعام سے نوازا گیا۔ سفید فام گولڈ رائخ کو 1963ء میں گرفتار کر لیا گیا۔ اپنی گرفتاری کے ایک برس بعد وہ جوہانسبرگ سے فرار ہو کر اسرائیل چلے گئے۔

نیلسن منڈیلا خود بھی کئی مرتبہ اعتراف کر چکے ہیں کہ انہوں نے آرتھر گولڈ رائخ کے ساتھ ایک اچھا وقت گزارا ہے۔ بالخصوص جب منڈیلا اور ANC کے دیگر 9 کارکن Liliesleaf Farm میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ اس وقت منڈیلا اور گولڈرائخ اکثر اوقات ہی ملتے رہتے تھے۔ 1961ء میں گولڈ رائخ اور ان کے ایک دوسرے ساتھی نے جوہانسبرگ کے شمالی علاقے Rivonia میں واقع ایک فارم خریدا تھا۔ اس فارم کا نام Liliesleaf Farm تھا اور وہ ANC کے ممبران کا خفیہ ہیڈ کوارٹر تھا۔

آرتھر گولڈ رائخ جنوبی افریقہ سے فرار ہونے کے بعد اگرچہ اسرائیل میں ہی رہے تاہم 1994ء میں جب جنوبی افریقہ میں نسلی تعصب پر مبنی قوانین کا خاتمہ ہوا اور نیلسن منڈیلا ملک کے جمہوری صدر منتخب ہوئے تو گولڈ رائخ نے جنوبی افریقہ کا ایک مختصر دورہ ضرور کیا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس