1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

آج کل کے نغموں میں احساس کی شدت کم ہے، سمیر

بالی وُڈ میں جہاں موسیقار اور گلوکار کا اپنا مقام ہے وہیں نغمہ نگار کی بھی اپنی ایک الگ پہچان ہے۔ اور اس کے لیے بھی اپنا مقام بنانا آسان نہیں ہے، بڑی تگ ودو کے بعد یہاں کام، نام اور دام ملتا ہے۔

ایسی ہی جدوجہد 35 سالوں سے بالی وُڈ سے جڑے نغمہ نگار سمیر نے کی جنہوں نے چار ہزار نغموں کے ساتھ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام بھی درج کروایا۔ سمیر نے ہر رنگ میں رنگ جمایا، چاہے وہ بھجن ہوں،نغمے ہوں یا غزلیں۔

بالی ووڈ کے لیے سمیر انجان نہیں تھے، ان کے والد ’انجان‘ نے دو ہزار نغموں کے ساتھ پہلے ہی اپنی جگہ بنائی ہوئی تھی۔ انجان چاہتے تھے کہ ان کے فرزند سمیر بھی اس میدان میں سرخرو ہوں ۔

یوپی کے اُدار نامی گاﺅں میں 24 فروری 1958ء کو سمیر نے اس دنیا میں آنکھ کھولی، گاﺅں کے کھیت کھلیانوں میں بچپن گذرا پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے بنارس کی راہ لی اور وہاں سے ’ایم کام‘ کیا۔ شروع کے دنوں میں بینک میں بھی نوکری کی، پر شاعر بننے کی دھن انہیں مایا نگری ممبئی لے آئی۔ 1981ء سے کوشش کرتے رہے اور بڑی جدوجہد کے بعد 1989ء میں انہیں فلم ’دل‘ ملی۔

اس فلم کے نغموں کے لیے انہیں فلم فئیر ایوارڈ بھی ملا اور وہ بھی ان کے والد انجان کے ہاتھوں۔ سمیر کے بقول یہ لمحہ ایک شاعر کے طور پر بھی اور ایک بیٹے کے طور پر بھی نہایت یادگار لمحہ تھا۔

سمیر ’عاشقی‘ کو اپنی بہترین فلم مانتے ہیں، جس کے نغموں نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی تھی۔ اپنے پسندیدہ موسیقاروں میں وہ ندیم شرون، آنند ملند اور ہمیش ریشمیا کے ساتھ زیادہ قریب رہے۔ انہوں نے اب تک 105 موسیقاروں کے ساتھ کام کیا ہے اور بقول سمیر یہ بھی ورلڈ ریکارڈ ہے۔

البتہ سمیر کو اس بات سے بھی شکایت ہے کہ فلموں میں نغمہ نگاروں کو وہ مقام حاصل نہیں ہے جو گلوکاروں اور موسیقاروں کو حاصل ہے۔ کیونکہ یہ سب تو فلم کے بعد بھی اپنے شوز وغیرہ کرکے سرخیوں میں رہتے ہیں۔ اس بات کے لیے وہ جاوید اختر کا احترام کرتے ہیں کہ انہوں نے نغمہ نگاروں کے جائز مقام کے لیے آواز اٹھانے میں پہل کی۔

Priyanka Chopra Bollywood Schauspielerin

سمیر کے بقول اب تو میوزک بھی انگلیوں کے پوروں میں سمٹ گیا ہے

سمیر نے اپنی بایوگرافی بھی ڈیرک بوس سے تحریر کروائی ہے جس کا نام Away with words ہے۔ اس کتاب کی رونمائی امیتابھ بچن کے ہاتھوں ہوئی تھی اور اس موقع پر کئی فنکار نغمہ سرا تھے۔

سمیر نے چار نسلو ں کے ساتھ کام کیا ہے۔ آج کے دور کے فنکاروں کے بارے میں ان کا کہنا ہے، ’’ہر دور نیا رنگ لاتا ہے جو کل تھا وہ آج نہیں ہے، جو آج ہے وہ کل نہیں ہوگا، بس یہ ہے کہ آج کے نغموں میں سنجیدگی کم ہے، احسا س کی شدت کم ہے، اب تو میوزک بھی انگلیوں کے پوروں میں سمٹ گیا ہے۔‘‘

سمیر کے کئی شوق ہیں جو ابھی پورے ہونے باقی ہیں۔ وہ دنیا گھومنا چاہتے ہیں اور اپنی فیملی اور دوستوں کے ساتھ وقت گذارنا چاہتے ہیں۔ ان کی دو بیٹیاں اورایک بیٹا ہے، بڑی بیٹی شادی کے بعد نیو یارک چلی گئی اور دوسری بیٹی ڈاکٹر ی کی پڑھائی میں مصروف ہے۔ بیٹا سدھیش پانڈے نویں جماعت کا طالب علم ہے اور انہیں امید ہے کہ وہ ان کی شاعری کی وراثت کو آگے بڑھائے گا۔

اپنا شاعر دوستوں اور خصوصی طور پر گلزار صاحب کے اصرار پرسمیر نے اپنا ایک شعری مجموعہ بھی ترتیب دیا ہے، جس کا نام انہوں نے گلدان رکھا ہے۔

سمیر کے لکھے ہوئے نغموں میں ’انکھیاں ملائے کبھی انکھیاں چُرائے‘، ’چاند سا چہرہ جھیل سی آنکھیں‘ اور ’آ اب لوٹ چلیں‘ جیسے مشہور گانے شامل ہیں۔

DW.COM