1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

آج کل پیدا ہونے والے بچوں کی متوقع اوسط عمر پانچ سال زیادہ

عالمی ادارہ صحت کے مطابق گزشتہ پندرہ برسوں کے دوران بین الاقوامی سطح پر انسانوں کی متوقع اوسط عمر پانچ سال بڑھی ہے اور توقع ہے کہ دنیا میں اس سال پیدا ہونے والے بچے اوسطاﹰ اکہتر برس سے زائد کی انفرادی عمریں پائیں گے۔

جنیوا سے جمعرات انیس مئی کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ انسانوں کی متوقع اوسط عمر میں اس اضافے کی بڑی وجہ افریقہ میں ایچ آئی وی وائرس، ایڈز کے مرض اور ملیریا کے خلاف جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیاں بنیں۔

عالمی ادارہ صحت یا ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ یہ بہت مثبت پیش رفت سن 2000 اور 2015 کے درمیانی ڈیڑھ عشرے میں دیکھنے میں آئی۔ اس کے علاوہ یہی مثبت تبدیلی 1960 کی دہائی سے لے کر اب تک نظر آنے والی اپنی نوعیت کی سب سے بڑی پیش رفت بھی ہے۔

ساٹھ کے عشرے میں زمین پر انسانی آبادی کی متوقع اوسط عمر میں بہت زیادہ اضافہ اس دور میں ہوا تھا جب دوسری عالمی جنگ کے بعد بڑی ترقی کے برسوں میں خاص طور پر یورپ اور جاپان میں عام لوگوں کے سماجی اور اقتصادی حالات میں نمایاں بہتری آئی تھی۔

عالمی ادارہ صحت کی سالانہ شماریاتی رپورٹ میں شائع کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس یعنی 2015 میں پیدا ہونے والے بچوں کے بارے میں ماہرین کو توقع ہے کہ ان کی بحیثیت مجموعی اوسط انفرادی عمر 71.4 برس رہے گی۔ یہ عمر پندرہ سال پہلے کے مقابلے میں قریب پانچ برس زیادہ ہے۔

ایک دوسرا رجحان یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ عالمی سطح پر خواتین کی اوسط عمریں مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہیں۔ اسی لیے پچھلے سال پیدا ہونے والی لڑکیوں کی متوقع اوسط عمر اگر 73.8 سال رہے گی تو لڑکوں میں یہی عمر 69.1 سال رہے گی۔ اس طرح آج کل پیدا ہونے والی بچیاں بچوں کے مقابلے میں اوسطاﹰ قریب پانچ سال زیادہ عمر پائیں گی۔

اقوام متحدہ کے صحت کے ادارے کی ڈائریکٹر جنرل مارگریٹ چن نے اس بارے میں کہا کہ نئے پیدا ہونے والے بچوں کی متوقع اوسط عمر میں اس بڑے اضافے کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے دنیا کے بہت سے خطوں، خاص کر براعظم افریقہ میں قابل علاج اور قبل از وقت روکی جا سکنے والی بیماریوں سے بچاؤ کے عمل میں خاصی پیش رفت ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے بالخصوص ملیریا کی بیماری کا ذکر کیا۔

WHO کے انہی تازہ اعداد و شمار میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت جن ممالک میں نومولود بچوں کی متوقع اوسط عمر سب سے زیادہ ہے، وہ جاپان اور سوئٹزرلینڈ ہیں۔ جاپان میں آج پیدا ہونے والی بچیاں مستقبل کی بالغ خواتین کی حیثیت سے اوسطاﹰ 86.8 سال تک کی انفرادی عمر پائیں گی۔ مردوں میں اس حوالے سے یورپی ملک سوئٹزرلینڈ سب سے آگے ہے، جہاں نومولود لڑکوں کی متوقع اوسط عمر کا موجودہ تخمینہ 81.3 سال لگایا جاتا ہے۔

اس کے برعکس مردوں اور خواتین دونوں حوالوں سے عالمی سطح پر سب سے کم متوقع اوسط عمر والا ملک سیرا لیئون ہے، جہاں عورتوں کی ممکنہ اوسط عمر صرف 50.8 سال اور مردوں کی محض 49.3 سال بنتی ہے۔

DW.COM